مسئلہ:
لڑکی ہندوستان میں اور لڑکا کسی اور ملک میں ہو، اور دونوں اپنے اپنے ملک میں رہ کر نکاح کرنا چاہتے ہیں ، تو اس کی صورت یہ ہے کہ لڑکا فون یا انٹرنیٹ کے ذریعہ ہندوستان میں کسی کو اپنا وکیل بنادے کہ وہ اس کی طرف سے فلاں لڑکی کا نکاح قبول کرلے، اب ہندوستان میں مجلس نکاح منعقد کی جائے، قاضی صاحب یا لڑکے کے والد وغیرہ جو بھی نکاح پڑھائیں ، وہ دو گواہوں کی موجودگی میں کہیں کہ میں نے فلاں لڑکی کا نکاح فلاں لڑکے سے ،جو فلاں ملک میں ہے کردیا، اور وکیل کہے کہ میں نے اس لڑکی کو فلاں کے نکاح میں قبول کیا، تو اس طرح نکاح منعقد ہوجائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : امرأة وکلت رجلاً لیتزوجها من نفسه فقال الوکیل بحضرة الشهود: تزوجت فلانة، ولم یعرف الشهود فلانة لا یجوز النکاح ما لم یذکر اسمها أو اسم أبیها۔(۲۶۸/۱، کتاب النکاح)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا ینعقد بقبول بالفعل کقبض مهر، ولا بتعاط، ولا بکتابة حاضر بل غائب یشترط إعلام الشهود بما فی الکتاب ما لم یکن بلفظ الأمر فیتولی الطرفین ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی: هذا إذا کان الکتاب بلفظ التزوج، أما إذا کان بلفظ الأمر کقوله: زوّجی نفسک منی لا یشترط إعلامها الشهود بما فی الکتاب، لأنها تتولی طرفی العقد بحکم الوکالة۔ (۷۳/۴۔۷۴، کتاب النکاح، مطلب التزوج بإرسال کتاب)
ما فی ” مختصر القدوری “ : کل عقد یضیفه الوکیل إلی موٴکله کالنکاح والخلع والصلح عن دم العمد، فإن حقوقه تتعلق بالموٴکل دون الوکیل فلا یطالب وکیل الزوج بالمهر، ولا یلزم وکیل المرأة تسلیمها۔ (ص:۱۲۲، کتاب الوکالة)
(فتاوی محمودیه: ۲۲۵/۱۶)
