مسئلہ:
حج کے دنوں میں سعودی گورنمنٹ وہاں کام کرنے والوں کو حج کرنے کی اجازت اسی صورت میں دیتی ہے، جبکہ وہ کسی حج گروپ کے ساتھ تأشیرہ (Visa) بنوالے، جس کی فیس تقریباً ، 1600/ ریال ہوتی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ ٹیکسی ڈرائیور یا دوسری پرائیویٹ کار کے ڈرائیور کے ساتھ،150 /یا 200 ، ریا ل میں معاملہ طے کرلیتے ہیں، اور یہ ٹیکسی ڈرائیور ان کو کسی ایسے راستے سے جہاں چیک پوسٹ نہ ہو، یا ہو مگر ان کے ساتھ ان کی جان پہچان ہے، یا لین دین طے کرکے ان لوگوں کو مکہ مکرمہ پہونچا دیتے ہیں، جو قانونی جرم ہے، اس طرح حج وعمرہ ادا تو ہوجائے گا(۱)، مگر ملکی قانون کی خلاف ورزی کرنے کا گناہ لازم ہوگا، کیوں کہ حاکم کے ایسے حکم کی اطاعت لازم ہے، جس سے حاکمِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم نہ آتی ہو۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” مجمع الأنهر “ : لأن المعاصی لا تمنع الطاعات ۔ (۳۸۶/۱، کتاب الحج)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ :﴿یآیها الذین آمنوا أطیعوا الله وأطیعوا الرسول وأولی الأمر منکم ﴾۔ (سورة النساء :۵۹)
ما فی ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن عمر رضی الله عنهما عن النبی ﷺ قال: ” السمع والطاعة علی المرء المسلم فیما أحب وکره، ما یؤمر بمعصیة “۔
(۱۰۵۷/۲، کتاب الأحکام، باب السمع والطاعة للإمام، رقم الحدیث: ۷۱۴۴)
ما فی ” فتح الباری “ : إنما قیده (أی فی ترجمة الباب) بالإمام ، وإن کان فی أحادیث الباب الأمر بالطاعة لکل أمیر ولو لم یکن إماماً ، لأن محل الأمر بطاعة الأمیر أن یکون مؤمراً من قبل الإمام ۔ (۱۵۱/۱۳)
ما فی” الشامیة “ : قال فی المعراج : لأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة ۔(۵۳/۳، باب العیدین، مطلب تجب طاعة الإمام الخ)
ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : لأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة فرض ۔(۴۱۶/۶، کتاب الجهاد، باب البغاة، مطلب فی وجوب طاعة الإمام)
