قبر کا شق پاٹنے کے لیے لکڑی وغیرہ لگانا

مسئلہ:

میت کے اوپر کی طرف یعنی قبر کا شِق پاٹنے کے لیے لکڑی، پتھر، سیمنٹ کے سلیپ اور لوہا وغیرہ لگانا جائز ہے، البتہ قبر کے اندر میت کے اطراف میں بلا ضرورت لکڑی کے تختے، پتھر، سیمنٹ کی اینٹ، لوہا اور بھٹی میں پکی ہوئی اینٹ لگانا مکروہِ تحریمی ہے، ہاں! اگر ضرورت ہو، مثلاً زمین بہت نرم ہو، یا اس میں نمی ہو، اور قبر گرنے کا خطرہ ہو، تو بقدرِ ضرورت مذکورہ چیزیں لگانے کی اجازت ہے، مگر لکڑی، پتھر یا سیمنٹ کی اینٹ سے ضرورت پوری ہوجائے، تو بھٹی کی پختہ اینٹ اور لوہے سے احتراز کیا جائے، اس لیے کہ ان میں آگ کا اثر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولا بأس باتخاذ تابوت ولو من حجر أو حدید له عند الحاجة کرخاوة الأرض ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: قوله: (ولا بأس باتخاذ تابوت الخ) أي یرخص ذلک عند الحاجة، وإلا کره کما قدمناه آنفًا، قال في الحلیة: نقل غیر واحد عن الإمام ابن الفضل أنه جوّزه في أراضیهم لرخاوتها وقال: لکن ینبغي أن یفرش فیه التراب وتطین الطبقة العلیا مما یلي المیت، ویجعل اللبن الخفیف علی یمین المیت ویساره لیصیر بمنزلة اللحد۔ (۱۴۰/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب في الدفن)

وفیه: ویسن اللبن علیه والقصب لا الآجر المطبوخ والخشب له حوله، أما فوقه فلا یکره ۔ ابن ملک ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: قال في الحلیة: وکرهو الآجر وألواح الخشب، وقال الإمام التمرتاشي: هذا إذا کان حول المیت، فلو فوقه لا یکره لأنه یکون عصمة من السبع۔

(۱۴۲/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن المیت، البحر الرائق:۳۳۹/۲۔۳۴۰، فصل السلطان أحق بصلوته، حلبي کبیر: ص/۵۹۵، فصل في الجنائز، السادس في الدفن)

(احسن الفتاویٰ: ۱۹۸/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔