قبلہ نما کے استعمال کا حکم

مسئلہ:

دورِ حاضر میں بالخصوص سفر کی حالت میں تعیینِ قبلہ کے لئے موجو د ہ دور کا ایک آلہ جسے ہم قبلہ نما کہتے ہیں استعمال کیاجاتاہے،چونکہ اس سے سمتِ قبلہ کا ظنِ غالب حاصل ہوجاتاہے ،اس لیے شرعاًاس کا استعمال صحیح ہے اور اس کے متعین کردہ سمتِ قبلہ میں رخ کر کے نماز پڑھنابھی جائز اور صحیح ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: فینبغي الاعتماد في أوقات الصلاة وفي قبلة علی ما ذکره العلماء الثقات في کتب المواقیت ، وعلی ما وضعوا لھا من الآلات کالربع والاصطرلاب فإنھا إن لم تفد الیقین تفید غلبة الظن للعالم بھا وغلبة الظن کافیة في ذلک۔(۱۰۰/۲،کتاب الصلاة ، مبحث في استقبال القبلة)

ما في ’’الفتاوی الهندیة‘‘: وجهة القبلة تعرف بالدلیل والدلیل في الأمصار والقری المحاریب التي نصبھا  الصحابة والتابعون فعلینا اتباعھم فإن لم تکن فالسؤال من أھل ذلک الموضع  وأما البحار والمفاوز فدلیل القبلة النجوم۔ (۶۳/۱، الفصل الثالث في استقبال القبلة)

ما في ’’البحرالرائق‘‘:(ومن اشتبھت علیه القبلة  تحری) أي إذا عجز عن تعرف القبلة بغیر تحری لزمه التحري وهو بذل المجهود لنیل المقصود۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ إذا کان في المفاوز والسماء مصحیة وله علم بالاستدلال النجوم علی القبلة لایجوز له التحري لأن ذلک فوقه۔

(۴۹۹/۱ ، باب شروط الصلاة ، بدائع الصنائع :۵۴۹/۱ ، في بیان شرائط الأرکان)

ما في ’’جمهرة القواعد الفقهیة‘‘: بقاعدة فقھیة :’’ العمل بغالب الرأي وأکبر الظن في الأحکام واجب ‘‘۔ (۷۹۱/۲ ،  بدائع الصنائع :۱۶۹/۱،  شرائط رکن  التیمم)

اوپر تک سکرول کریں۔