( فتویٰ نمبر: ۱۰۸)
سوال:
مرحوم عبد الستار کے انتقال کے وقت آپ نے اپنے ورثا میں ۵/ لڑکے اور ۲/ لڑکیاں چھوڑی، وفات کے وقت ان کی ملکیت میں ایک بلڈنگ جس کی قیمت اس وقت ایک لاکھ روپے تھی، اور آج اس میں تعمیری اضافہ کے بعد اس کی قیمت تقریباً ۳۵ / لاکھ روپے ہیں، اسی طرح مرحوم نے اپنی وفات کے وقت بشکلِ دوکان۶۰/ ہزار روپے نقد بھی چھوڑے تھے، اب ہم نے دوکان اور اس کا سرمایہ مرحوم کی وفات کے بعد تقسیم نہیں کیا، اور اسی پر ہم پانچ بھائیوں نے محنت کرکے اس کاروبار کو کافی بڑھالیا، اب جب بھائیوں اور بہنوں کے مابین وراثت تقسیم ہوگی، تو کیا صرف ساٹھ ہزار کا ہی اعتبار کیا جائے گا؟ یا اس مالیت کا جو آج موجود ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-بشرطِ صحتِ سوال، مرحوم عبد الستار کی کل جائدادِ منقولہ وغیر منقولہ ۱۲/ حصوں میں تقسیم ہوکر، دو دو حصے پانچ لڑکوں میں سے ہر لڑکے کو، اور ایک ایک حصہ ہر لڑکی کو از روئے شرع ملے گا۔(۱)
۲-مرحوم کی جو نقد رقم مبلغ ۶۰/ ہزار روپے تھی ،اور آج تک ترکہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے مرحوم کے پانچ لڑکوں نے اسی پر محنت کرکے کاروبار کو ترقی دے کر جو منافع حاصل کیے،اگر ان کا ارادہ اس کاروبار میں دونوں بہنوں کو شریک کرنے کا تھا(کیوں کہ اس رقم میں ان کا بھی حصہ تھا)، تو اس کاروبار کی مجموعی مالیت کا اعتبار کرکے اوپر بیان کردہ حصوں کے مطابق اس کی تقسیم ہوگی، اور اگر یہ ارادہ نہیں تھا تو صرف ۶۰/ ہزار روپے ہی کومذکورہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، منافع کو نہیں، البتہ اس صورت میں بہنوں کے حصے کو ان کی اجازت کے بغیر کاروبار میں لگاکر جو منافع حاصل کیے گئے وہ منافعِ فاسدہ ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ وہ اصل مالک کو واپس کیے جائیں۔(۲)
۳-مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت مکان وزمین کو جس حالت میں چھوڑا تھا، تقسیمِ وراثت کے وقت صرف اسی کی موجودہ مالیت کا اعتبار ہوگا ،نہ کہ اس مالیت کا جو اضافے کے بعد پیدا ہوئی۔(۳)
البتہ جس حصہٴ زمین پر دیگر ورثا کی اجازت کے بغیر اضافی تعمیر کی گئی،اگر وہ کسی دوسرے وارث کے حصے پر واقع ہے، تو اس وارث کو یہ حق حاصل ہو گا کہ اپنے اس حصہٴ زمین کی قیمت وصول کرلے ، یا اپنی زمین کو عمارت سے خالی کرانے کا مطالبہ کرے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)
ما في ” تبیین الحقائق “ : إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون والبنات ، فیکون للإبن مثل حظ الأنثیین ۔
(۴۸۰/۷ ، کتاب الفرائض ، السراجي في المیراث : ص/۱۲ ، فصل في النساء)
(الفتاوی الهندیة : ۴۴۸/۶ ، الباب الثاني في ذوي الفروض)
(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : لو تصرف أحد الورثة في الترکة المشترکة وربح، فالربح للمتصرف وحده ، کذا في الفتاوی الغیاثیة ۔ اه ۔
(۳۴۶/۴ ، کتاب الشرکة، الباب السادس في المتفرقات ، فصل تصرف أحد الورثة ، ط : زکریا دیوبند)
ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : (إذا أخذ الورثة مقدارًا من النقود من الترکة قبل القسمة بدون إذن الآخرین وعمل فیه فخساره یعود علیه ، کما أنه لو ربح لا یأخذ الورثة حصة فیه) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المسألة الأولی : إذا أخذ أحد الورثة مقدارًا من النقود من الترکة قبل القسمة بدون إذن الآخرین ، أو أذن الوصي إذا کان الورثة صغارًا فکما أن الضرر یعود علیه ویأخذ الورثة حصتهم في رأس المال فقط ، کذلک لو ربح فلا یأخذ الورثة حصة من الربح إلا أنه في هذه الصورة لا یکون الربح الحاصل من حصة الورثة الآخرین طیبًا للآخذ والعامل في ذلک ۔ (الفتاوی الجدیدة) ۔(۵۱/۳ ، ۵۲ ، المادة : ۱۰۹۰ ، التصرف في الأعیان المشترکة ، ط : دار الجیل بیروت)
ما في ” رد المحتار “ : في التاتر خانیة وغیرها : مات رجل وترک أولادا صغارا وکبارا وامرأة والکبار منها أو من امرأة غیرها فحرث الکبار وزرعوا في ارض مشترکة أو في أرض الغیر ۔ (۴۱۲/۹ ، کتاب المساقاة)
ما في ” أحسن الفتاوی “ : وفي الذخیرة : رجل مات وترک الورثة فتصرف أحد الورثة في المال بالتجارة فتزاید المال فالقاضي یقسم أصل المال علی فرائض اللّٰه تعالی لا فرعه، وفي التاتارخانیة : مات رجل وترک أولادًا صغارًا وکبارًا، فحرث الکبائر وزرعوا في أرض مشترکة أو في أرض الغیر، فإن زرعوا من بذر أنفسهم أو بذر مشترک بلا إذن فالغلة للمزارعین۔ (۲۸۶/۹ ، کتاب الوصیة والفرائض)
(۳) ما في ” رد المحتار “ : الترکة في الاصطلاح : ما ترکه المیت من الأموال صافیًا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال ۔ (۴۹۳/۱۰ ، کتاب الفرائض)
(۴) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (بنی أحدهما) أي أحد الشریکین (بغیر إذن الآخر) في عقار مشترک بینهما ، (فطلب شریکه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصیب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (بغیر إذن الآخر) ، وکذا لو بإذنه لنفسه ؛ لأنه مستعیر لحصة الآخر ، وللمعیر الرجوع متی شاء ، أما لو بإذنه للشرکة یرجع بحصته علیه بلا شبهة ۔ رملي علی الأشباه ۔ قوله : (وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قیمته ۔ ط ۔ عن الهندیة ۔
(۳۸۸/۹ ، کتاب القسمة ، مطلب : في الرجوع عن القرعة) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد:محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۷/۵ھ
الجواب صحیح :عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۷/۵ھ
