قرآنِ مجید ،کتبِ احادیث وکتبِ فقہیہ وغیرہ سے ٹیک لگانا

مسئلہ:

قرآنِ مجید اور کتبِ احادیث وفقہ سے تکیہ کا کام لینا ،یا ان پر ٹیک لگانا مکروہ ہے،اس لئے کہ یہ تمام چیزیں تحصیلِ علمِ دین کے ذرائع ہیں، اور ذرائع کا احترام مقصد کے تابع ہوکرفرض اور واجب ہوتا ہے، البتہ اگر کہیں سفر میں چوری ہونے کا اندیشہ ہو، اور حفاظت کا اور کوئی طریقہ نہ ہو تو جائز ہے۔ 

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” الفتاوی الهندیة “ : متعلم معه خریطة فیها کتب من أخبار النبي ﷺ أو کتب أبي حنیفة أو غیره فتوسد بالخریطة ، إن قصد الحفظ لا یکره ، وإن لم یقصد الحفظ یکره ۔کذا في الذخیرة ۔ التوسد بالکتاب الذي فیه الأخبار لا یجوز إلا علی نیة الحفظ له ۔ کذا في الملتقط ۔ وضع المصحف تحت رأسه في السفر للحفظ لا بأس به ، وبغیر الحفظ یکره ۔ کذا في خزانة الفتاوی ۔ (۳۲۲/۵ ، کتاب الکراهیة ، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف الخ)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویکره وضع المصحف تحت رأسه إلا للحفظ ۔ اه ۔ الدر المختار ۔ (۳۲۱/۱ ، کتاب الطهارة ، قبیل باب المیاه)

ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا ۔ (ص/۴۶ ، مسلم الثبوت :ص/۳۸)

ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود ۔( ۱۷۵/۳ ، فصل في سد الذرائع)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔