مسئلہ:
اگر امام نے قرأت میں ایسی فحش غلطی کی کہ اگر عمداً ایسا کرتا تو کفر لازم آتا، مثلاً: ﴿إن الأبرار لفی نعیم﴾ کے بجائے ﴿إن الأبرار لفی جحیم﴾پڑھ دیا، یا ﴿إن الذین آمنوا وعملوا الصّٰلحٰت أولئک هم خیر البریة﴾کی بجائے﴿أولئک هم شر البریة﴾ پڑھ دیا، بعدہ کسی کے لقمہ دینے پر یا از خود یاد آنے پر، اس غلطی کی اصلاح کرلی(۱)، تو اس صورت میں نماز کا اعادہ لازم ہے یا نہیں ؟ اس سلسلے میں ہمارے مشائخ کے فتاویٰ مختلف ہیں:
۱– …حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم لاجپوری صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”جب قرأت کی غلطی بذاتِ خود درست کرلے، یا مقتدی کے لقمہ دینے سے درست کرلے، تو حرج اورعمومِ بلویٰ کے پیشِ نظر نماز صحیح ہونے کا فتوی دیا جائے گا“۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱۰۳/۵)
۲-…حکیم الامت ، مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ” نمازِ ایں صحیح باشد “۔ (امداد الفتاوی: ۲۱۸/۱)
۳-…فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب پاکستانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ”نماز ہوگئی“ ۔ (احسن الفتاوی: ۴۴۵/۳)
۴-…شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”نماز میں قرأت کی غلطی ہوجانے کے بعد اس کا تدارک کرنے سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نماز درست اور صحیح ہوگی“ ۔ (فتاوی حقانیہ: ۱۷۷/۳)
ان تمام بزرگوں نے اپنے جوابات کی تائید میں فتاوی عالمگیری کی یہ عبارت نقل کی ہے: ” وذکر في الفوائد: لو قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم رجع وقرأ صحیحًا، قال: عندي صلاته جائزة “ ۔ (الفتاوی الهندیة : ۸۲/۱)
البتہ حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ” اصح قول کی بناء پر ایسی غلطی سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، اور جب فاسد ہوگئی تو دوبارہ لوٹاکر صحیح پڑھنے سے درست نہ ہوگی، لہٰذا اس کا اعادہ کرنا چاہیے“۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱۸/۷) اور آپ نے اپنے اس جواب کی تائید میں ”حسن بن منصور بن محمود الأوزجندی المعروف به قاضی خان رحمة اللہ علیه “ سے یہ عبارت نقل کی ہے : ” وإن تغیر المعنی بأن قرأ : ﴿إن الأبرار لفي جحیم ، وإن الفجار لفي نعیم﴾ ، أو قرأ : ﴿إن الذین آمنوا وعملوا الصلحت أولئک هم شرّ البریة﴾ ، أو قرأ : ﴿وجوه یومئذ علیها غبرة ، أولئک هم الموٴمنون حقًّا﴾ ، تفسد صلاته ، لأنه أخبر بخلاف ما أخبر الله تعالی به ، وقال بعضهم : لا تفسد صلاته لعموم البلویٰ ، والأول أصح ۔(فتاوی قاضی خان : ۶۸/۱)
مذکورہ بزرگوں کا جواب توسع اور عموم بلویٰ پر مبنی ہے، جب کہ حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کا جواب احتیاط پر مبنی ہے، جیسا کہ خود قاضی خان رحمة اللہ علیہ کی یہ عبارت شاہد ہے کہ: ” وما قاله المتقدمون أحوط ، لأنه لو تعمد یکون کفرًا وما یکون کفرًا لا یکون من القرآن ، وما قاله المتأخرون أوسع ، لأن الناس لا یمزون بین اعراب واعراب فلا تفسد الصلاة “ ۔ (فتاوی قاضی خان :۶۸/۱)
اس لیے حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب کا جواب بایں وجوہ راجح ہونا چاہیے:
(۱) فقہ کا قاعدہ ہے: ” الإحتیاط في حقوق اللہ لا في حقوق العباد “ کہ” حقوق اللہ میں احتیاط برتی جاتی ہے“ ۔ (قواعد الفقه: ص/۵۴، المادة: ۱۰)
(۲) امام صاحب رحمة اللہ بھی فسادِ صلوة کے قائل ہیں، اور علامہ شامی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” الفتوی علی قول الإمام في العبادات “کہ” عبادات میں امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیاجاتا ہے “۔ (شرح عقود رسم المفتی: ص/ ۱۴۶)
(۳) اس مسئلہ میں امام محمد رحمة اللہ علیہ بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، اور علامہ شامی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” وإن کانت المسئلة مختلفًا فیها بین أصحابنا، فإن کان مع أبي حنیفة أحد صاحبیه یأخذ بقولهما، أی بقول الإمام ومن وافقه لوفور الشرائط، واستجماع أدلة الصواب فیها “کہ” اگر کسی مسئلہ میں ہمارے اصحاب کے مابین اختلاف ہو، اور صاحبین میں سے کوئی ایک امام صاحب کے ساتھ ہو، تو امام صاحب اور جو آپ کے موافق ہو، اسی کے قول کو اختیار کیا جائے گا“۔(رسم المفتی:ص/۱۲۵)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” شرح عقود رسم المفتي “ : وفي منظومة ابن وهبان:
وإن لحن القاري وأصلح بعده
إذا غیر المعنی الفساد مقرر
اشتمل البیت علی أربع مسائل من زلة القاری : الأولی: إذا لحن المصلی فی قراءته لحنا یغیر المعنی کفتح لام الضالین، لا تجوز صلاته، وإن أعادها بعد ذلک علی الصواب۔
(ص/۴۵، رقم البیت:۵۲)
