(فتویٰ نمبر: ۱۳۳)
سوال:
بکرے کی قربانی کے سلسلے میں صرف سال بھر کا ہوجانا کافی ہے،یا دانت کا نکل آنا اور دانت والا ہونا ضروری ہے؟ہمارے علاقے میں غیر مقلدین عوام کو بھڑکاتے رہتے ہیں کہ دانت کا ہوجانا ضروری ہے، صرف سال بھر کا ہونا کافی نہیں ہے،ورنہ قربانی نہیں ہوگی، حدیث میں دانت والا ہونا بیان کیا گیا ہے، اور علمائے احناف کہتے ہیں کہ سال بھر کا ہونا کافی ہے،اس سلسلے میں حدیثِ صریح کیا ہے؟اور کون سی حدیث ہے جس سے معلوم ہوکہ قربانی کے جانور کاسال بھر کا ہوجانا کافی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
بکرے کی قربانی کے لیے سال بھر کا ہونا ضروری ہے،اور اگر سال پورا ہونے میں چند روز بھی باقی ہوں، تو قربانی درست نہیں، قربانی کے جانور کا دانت والا ہونا لازم نہیں ہے؛ اس لیے کہ جس طرح یہ ممکن ہے کہ دانت ہوں اور سال بھر کا نہ ہو، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ دانت نہ ہوں اورسال بھر کا ہو، کیوں کہ دانت علامت ہیں اور علامت سے ان کے متعلق کا تخلُّف کچھ محال نہیں، لہٰذا دو دانت ہونے پر ایک سال کی عمر کا حکم لگانا قطعی نہیں،اور حدیث میں دانت والا ہونا صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
” لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن یعسر علیکم فتذبحوا جذعة من الضأن “(۱)
حدیث شریف میں لفظ ”مسنة “جو مذکور ہے یہ دو معانی میں مشترک ہے،ایک لمبی عمر والا جانور، دوسرے دانت والا جانور، فقہائے کرام نے اس سے عمر کو مراد لیا ہے اور دانت کو علامت قرارد یا ہے، لہٰذا قربانی کا جانور ” مسنة “ یعنی سن رسیدہ ہو،تو اس کی قربانی درست ہے ،اور دانت کی علامت ہو تو بہتر ہے، لیکن دانت کی علامت پر دارومدار نہیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) (الصحیح لمسلم :۵۵/۱ ، باب من الأضحیة)
(السنن لأبي داود : ۳۲۴/۲ ، باب ما یجوز في الضحایا من السن ، سنن النسائي : ۱۸۰/۲ ، المسنة والجذعة ، سنن ابن ماجة : ص/۲۲۷۰ ، باب ما یجوز من الأضاحي)
(۲) ما في ” بذل المجهود “ : مسنة بضم النون وکسر العین وبالنون المشدد ، وهو من الإبل ما استکمل خمس سنین وطعن في السادسة ، ومن البقر ما استکمل ثنتین وطعن في الثالثة ، ومن الغنم ضأنا أو معزا ما استکمل سنة وطعن في الثانیة ۔ (۴۴/۹)
ما في ” حاشیة سنن النسائي “ : قال السندي : قلت : فمن الإبل التي تمت لها خمس ودخلت في السادسة ومن البقر التي تمت لها سنتین ودخلت في الثالثة ، ومن الضأن والمعز ما یثبت له سنة ۔(۱۸۰/۲)
ما في ” المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج “ : قال العلماء : المسنة هي السنة من کل شيء من الإبل والبقر والغنم فما فوقها ۔ (۴۴/۷)
ما في ” البحر الرائق “ : وجاز الشيء من الکل والجذع من الضأن ۔ (۳۲۴/۸)
(فتاویٰ رحیمیه:۴۷/۱۰، فتاویٰ محمودیه:۳۶۸/۱۷) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۲ھ
