(فتویٰ نمبر: ۱۵۵)
سوال:
ہماری برادری والوں نے ایک جماعت قائم کی ہے، جس کا نام ”بہشتی جماعت“ ہے، اس میں ہماری برادری والے چندہ جمع کرتے ہیں، اس میں بچت بھی ہوتی ہے اور ہماری برادری کے ضرورت مند لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور پیسے مانگتے ہیں،ہم لوگ ان کو پیسے دیتے ہیں، اور وہ لوگ ضرورت پوری ہوجانے کے بعد وہ پیسے واپس کر دیتے ہیں اور اس کے ساتھ اور بھی پیسے دے کر ہماری جماعت کی امداد کرتے ہیں وہ بھی خوشی کے ساتھ، تو کیا ہم لوگ اس امداد کو قبول کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس کا شرعی حکم کیاہے؟ ہم لوگ ان سے کوئی زبردستی نہیں کرتے اور امداد کرنے والا بھی جماعت کا ممبر ہوتا ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر قرض دیتے وقت زیادتی کی شرط لگائی جائے، تو اس صورت میں یہ زیادتی سود میں داخل ہے اور اس کا لینا حرا م ہے، اور اگر زیادتی کی شرط نہیں لگائی مگر وہاں کا عرف یہ ہو کہ قرض لوٹاتے وقت زیادتی کے ساتھ لوٹایاجاتا ہے، تو یہ صورت بھی سود میں داخل ہے، اور اگر مذکورہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں تو یہ صحیح ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” إعلاء السنن “ : قال علیه الصلاة والسلام : ” کل قرض جر منفعة فهو ربا “ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وکل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف ، قال ابن المنذر : أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستلف زیادة أو هدیة ، فأسلف علی ذلک أن أخذ الزیادة علی ذلک ربا ۔ (۵۶۶/۱۴)
ما في ” تفسیر الخازن “ : فإن لم یشترط فضلا في وقت القرض فرد المستقرض أفضل مما أخذ جاز، ویدل علی ذلک ما روي عن مجاهد أن ابن عمر استسلف دراهم فقضی صاحبها خیرًا منها، فأبی أن یأخذها ، وقال : هذه خیر من دراهمي، فقال ابن عمر : قد علمت ولکن نفسي بذلک طیبة ۔ (۲۱۷/۱)
ما في ” فقه السنة “ : کل قرض جر نفعًا فهو ربا ۔۔۔۔۔۔ والحرمة مقیدة هنا بما إذا کان نفع القرض مشروطًا أو متعارفًا علیه ، فإن لم یکن مشروطًا ولا متعارفًا علیه فللمقترض أن یقضي خیرًا من القرض في الصفة أو یزید علیه في المقدار ۔ اھ ۔ (۱۹۲/۳ ، ط : مکتبة الفتح للإعلام العربي – القاهرة) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۲/۵ھ
