قرض وصول کراکے دینے والے کی اجرت

مسئلہ:

بسا اوقات کسی کے ذمہ کسی کا کوئی قرض ہوتا ہے، اور وہ اس قرض کی ادائیگی پر قادر بھی ہوتا ہے، مگر ادا نہیں کرتا، ٹال مٹول کرتا رہتا ہے، تو قرض خواہ (قرض دینے والا) کسی سے یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص کے پاس میری اتنی رقم پھنسی ہوئی ہے، اوروہ ادائیگی کا نام بھی نہیں لیتا، اگر آپ میری یہ رقم وہاں سے نکال دوگے، تو میں آپ کو اجرت ومِحنتانہ کے طور پر مثلاً؛دس ہزار روپئے دوں گا، اس طرح کا معاملہ شرعاً صحیح ہے، بشرطیکہ اجرت ومِحنتاہ میں دی جانے والی رقم کی ادائیگی ، حاصل ہونے والی قرض کی رقم سے طے نہ ہو، بلکہ اپنی صواب دید سے اپنی جس رقم سے چاہے، اس کی اجرت دا کرے۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” رد المحتار “ : والأصل في ذلک نهیه ﷺ عن قفیز الطحان وقدمناه في بیع الوفاء، والحیلة أن یفرز الأجر أولا، أو یسمی قفیزا بلا تعیین ثم یعطیه قفیزا منه فیجوز۔

(۷۹/۹،باب الإجارة الفاسدة، مطلب تحریم مهم في عدم جواز الاستئجار علی التلاوة والتهلیل الخ)

ما في ” البحر الرائق “ : والحیلة في جوازه أن یشترطا قفیزا مطلقا فإذا عمل استحق الأجرة۔ (۴۱/۸، باب الإجارة الفاسدة)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۳۹۸۱)

اوپر تک سکرول کریں۔