قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی ایک پر کوئی چیز لازم کرنا

مسئلہ:

آج کل بعض نوجوان ہوٹل یاکینٹن وغیرہ میں جمع ہوکر آپس میں قرعہ اندازی کرتے ہیں، اوراس میں یہ شرط لگاتے ہیں ،کہ جس کانام قرعہ اندازی سے نکل آئے وہی کھلائے گایاپلائے گا، اس میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی آدمی کا نام ہفتہ میں چارمرتبہ آئے، کسی کادومرتبہ، اور کسی کا ایک مرتبہ بھی نہ آئے ، اسی طرح بعض لوگوں کی کبھی کبھارہوٹل یاکینٹن وغیرہ میں ملاقات ہوجاتی ہے توآپس میں قرعہ اندازی کرتے ہیں، جس کانام نکل آئے وہ اس دن کے پور ے خرچ کاذمہ دار ہوتا ہے ، اس طرح سے کھلانا پلانا، کھانااورپینا صریح قماریعنی جواہے،جوشرعاً ناجائز اورحرام ہے، البتہ پہلی صورت میں اگر یہ طریقہ ہوکہ جس کانام ایک بارقرعہ میں نکل آئے دوبارہ اس کانام شامل نہ کیاجائے، یہاں تک کہ تمام ساتھیوں کی باری پوری ہوجائے توجائز ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿یا أیها الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراضٍ منکم﴾ ۔ (سورة النساء :۲۹)

ما في ” البحر المحیط “ : قال أبوحیان رحمه الله تعالی : والباطل هوکل طریق لم تبحه الشریعة ، فیدخل فیه السرقة والخیانة والغصب والقمار وعقود الربوا وأثمان البیاعات الفاسدة ۔ (۳۲۲/۳)

ما في ” الشامیة “ : قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی : وسمي القمار قمارًا ، لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه ، وهو حرام بالنص ۔ (۵۷۷/۹ ، الحظر والإباحة ، باب الاستبراء ، فصل في البیع)

اوپر تک سکرول کریں۔