مسئلہ:
اگر چند نمازیں فوت ہوجائیں اور مختلف وقتوں میں قضا کرے، تو ہر نماز کے لیے اذان واقامت کہنا مستحب ہے، اور اقامت پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے، اور اگر ایک ساتھ سب نمازیں قضا کرے تو پہلی نماز کے لیے اذان واقامت کہنا مستحب ہے، اور باقی میں اختیار ہے ، چاہے ہر ایک کے لیے اقامت پر اکتفا کرے ، چاہے ہر ایک کے لیے اذان واقامت دونوں کہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” العنایة شرح الهدایة “ : (فإن فاتته صلوات أذّن للأولی وأقام لما روینا) من حدیث لیلة التعریس (وکان مخیرا في الباقي إن شاء أذّن وأقام) لیکون القضاء علی حسب الأداء (وإن شاء اقتصر علی الإقامة)۔
(۲۰۸/۱، کتاب الصلاة، باب الأذان، بیروت، العنایة شرح الهدایة علی هامش الفتح:۲۵۷/۱، بیروت، الهدایة شرح بدایة المبتدي: ۵۳/۱، دار الأرقم بیروت، البنایة شرح الهدایة: ۱۱۹/۱، مکتبه رشیدیه کوئٹه، بدائع الصنائع:۳۸۰/۱۔۳۸۱، الفتاوی الهندیة:۵۵/۱، الفتاوی التاتارخانیة:۳۲۶/۱، الهدیة العلائیة لتلامیذ المکاتب الابتدائیة في الفقه الحنفي: ص:۷۱، باب الأذان، ط: دار ابن حزم بیروت)
