قعدۂ اُولیٰ طویل ہونے پر لقمہ دینا

مسئلہ:

اگر کوئی امام قعدہٴ اُولیٰ میں مقدارِ تشہد سے زیادہ بیٹھ جائے، یعنی معمول سے کسی قدر تاخیر ہوجائے، تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ امام کو سہو ہوگیا ، اور اس نے تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا، بلکہ ہوسکتا ہے کہ معنی کی طرف دھیان کرنے سے یا کسی دوسری حضوری کیفیت کی وجہ سے تاخیر ہوگئی ہو، تو مقتدیوں کو چاہیے کہ امام کو لقمہ دینے میں جلدی نہ کریں، اور محض شبہ کی بنیاد پر لقمہ نہ دیں(۱)، ہاں! جب امام سلام پھیرنے لگے تو یقینی بات ہے کہ اس نے قعدہٴ اُولیٰ کو قعدہٴ اخیرہ تصور کیا، تب لقمہ دینا لازم ہے، تاہم اگر کسی نے شبہ کی بنیاد پر لقمہ دیدیا، تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : قوله: (وفتحه علی الإمام جائز) ویکره للمقتدي أن یعجّل بالفتح؛ لأن الإمام ربما یتذکر، فیکون التلقین من غیر حاجة۔

(ص:۳۳۴، باب ما یفسد الصلاة، قدیمي، رد المحتار:۶۲۲/۱۔۶۲۳، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مکتبه سعید)

(۲) ما في ” البحر الرائق “ : لو فتح علی إمامه فلا فساد، لأنه تعلق به إصلاح صلوته؛ أما إن کان الإمام لم یقرأ الفرض فظاهر ۔۔۔۔۔۔ والصحیح عدم الفساد؛ لأنه لو لم یفتح ربما یجري علی لسانه ما یکون مفسدا، فکان فیه إصلاح صلوته۔ (۱۰/۲، بیروت ورشیدیه)

(فتاویٰ محمودیہ: ۱۵۵/۷، کراچی)

اوپر تک سکرول کریں۔