قومہ اور جلسہ میں تعدیل واطمینان

 مسئلہ:

رکوع سے سر اٹھا نا اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا ،اور ان دونوں میں تعدیل واطمینان امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فرض ہے ،اور حضراتِ طرفین یعنی امام ابوحنیفہ وامام محمدرحمہمااللہ سے مشہور روایت سنیت کی ہے،اور دوسری روایت وجوب کی ہے، اور وجوب کی روایت دلا ئل کے موافق ہے ،کیوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قومہ اور جلسہ پر مواظبت ثابت ہے ، لہٰذا قومہ ، جلسہ اور ان دونوں میں تعدیل واطمینان واجب ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : وأما القومة والجلسة وتعدیلہما فالمشہور في المذہب السنّیة ، وروي وجوبہا ، وہو الموافق للأدلة ، وعلیه الکمال من بعدہ من المتأخرین ، وقد علمت قول تلمیذہ : انه الصواب ، وقال أبو یوسف بفرضیة الکل ، واختارہ فی المجمع والعیني ، ورواہ الطحاوي عن أیمتنا الثلاثة ، وقال فی الفیض : إنه الأحوط ۔

(۱۵۸/۲ ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، مطلب لا ینبغي أن یعدل عن الدرایة إذا وافقتہا روایة)

اوپر تک سکرول کریں۔