قیام میں ایک ہی قدم پرزور دے کر کھڑا ہونا

مسئلہ:

قیام کی حالت میں یکے بعد دیگرے اس طرح، کہ درمیان میں سکون واطمینان اختیار نہ کرے ،کبھی دائیں اور کبھی بائیں پاوٴں پر زور ڈال کر کھڑا ہونا مکروہ ہے، لیکن اگر نماز طویل ہو اور بغرضِ استراحت ،کچھ دیر دائیں او رکچھ دیر بائیں پاوٴں پر سہارا لیکر کھڑا ہو تو مکروہ نہیں ہے ،اور اگر کوئی عذر ہو تب بھی یہی حکم ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” الشامیة “ : ویکره القیام علی أحد القدمین في الصلاة بلا عذر ۔(۱۳۱/۲ ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، بحث القیام ، منیة المصلي :ص/۱۰۶)

ما في ” اعلاء السنن “ : وذکر الطحطاوي عن ” الظهیریة “ : نص الإمام علی ذلک ، قال : فما في” منیة المصلي “ من کراهة التمایل یمینًا ویسارًا ، محمول علی التمایل علی سبیل التعاقب من غیر تخلل سکون کما یفعله بعضهم حال الذکر ، لا المیل علی أحد القدمین بالاعتماد ساعة ، ثم المیل الأخریٰ کذلک ۔

(۱۶۲/۵، کتاب الصلا ة ، باب کراهة صف القدمین في الصلاة واستحباب التراوح بینهما وکراهة الاعتماد علی الجدار ونحوه)

 

اوپر تک سکرول کریں۔