لائف انشورنس کمپنی(Life insurance company)کی پالیسی میں پیسہ جمع کرنا

(فتویٰ نمبر: ۸۶)

سوال:

ایل آئی سی( L.I.C) کی پالیسی میں ہمارے چالیس ہزار روپے جمع کیے ہوئے ہیں، جس وقت ہم نے اس میں کھاتہ کھولا تھا اس وقت ہمیں اس کے بارے میں معلومات نہیں تھی، بعد میں ہمارے رفقا نے بتایا کہ اس میں پیسے جمع کرانا درست نہیں ہے، تو ہم پریشان ہیں کہ اب کیا کریں، اگر ہم اب اس کو بند کردیتے ہیں تو ہمیں صرف بیس ہزار روپے ہی ملتے ہیں اور باقی بیس ہزار روپے ڈوب جاتے ہیں،اور اگر ہم اپنی پوری رقم وصول کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس پالیسی کو دو سال اور جاری رکھنا ہوگا،تو ہی ہمیں ہماری پوری رقم ملے گی اور اس پر سود بھی ملے گا، اور ہم سود لینا نہیں چاہتے، تو کیا ہم اپنی پوری رقم وصول کرنے کے لیے دوسال پالیسی کو مزید جاری رکھیں یا اس کو فوراً بند کرکے بیس ہزار روپیوں کا نقصان اٹھائیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

عام حالات میں لائف انشورنس پالیسی (L.I.C) میں پیسہ لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ بعض صورتوں میں سود، بعض میں قمار اور بعض میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں، اور سود(۱)وقمار(۲) دونوں نصِ قطعی سے حرام وممنوع ہیں۔

آپ نے چوں کہ ناواقفیت کی بنا پر اس پالیسی میں پیسہ جمع کیا ہے، اور آپ کو اس کی ممانعت کا علم ہوا، اور آپ اپنے اس فعل پر نادم بھی ہیں، اور حال یہ ہے کہ اگر درمیان میں قسطیں (Premium) بند کردیتے ہیں، تو اپنی جمع کردہ رقم میں سے صرف آدھی رقم واپس مل سکتی ہے، تو اب بہتر تو یہی ہے کہ اسی کو نکال لے، اور اس حرام وممنوع عقد سے فوری علیحدگی اختیار کی جائے، کیوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے: ”مفاسد کو دور کرنا نفع کے حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہے“(۳)، اور یہ بھی گنجائش ہے کہ پالیسی کی مقررہ مدت مکمل کرکے پوری رقم وصول کی جائے، تاکہ ضیاعِ مال لازم نہ آئے(۴)،اور اپنی اصل رقم نکال کر بقیہ رقم غربا وفقرا پر بلانیتِ ثواب صدقہ کردیں(۵)، یا رفاہی کاموں میں لگادیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأحل اللّٰه البیع وحرَّم الربوٰا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔

(۲۷/۲ ، مشکوة المصابیح : ص/۲۴۴)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : الربوا کل زیادة مشروطة في العقد خالیة عن عوض مشروع ۔ (ص/۲۱۸)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : والقمار تعلیق الملک علی الخطر والمال من الجانبین۔ (ص/۳۶۹)

ما في ” رد المحتار “ : القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخری ، وسمي القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه وهو حرام بالنص۔ (۵۷۷/۹ ، ۵۷۸ ، کتاب الحظر والإباحة)

(۳) ما في ” قواعد الفقه “ : درء المفاسد أولی من جلب المنافع ۔ (ص/۸۱ ، رقم القاعدة : ۱۳۳)

(۴) ما في ” صحیح البخاري “ : عن المغیرة بن شعبة قال : قال النبي ﷺ : ” إن اللّٰه حرم علیکم عقوق الأمهات ووأد البنات ، ومنع وهات ، وکره لکم قیل وقال ، وکثرة السوٴال ، وإضاعة المال “ ۔

(۳۲۴/۱ ، کتاب الاستقراض وأداء الدیون، باب ما ینهی عن إضاعة المال، ط: مکتبه بلال دیوبند، و: ص/۴۲۲، رقم: ۲۴۰۸ ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت)

(۵) ما في ” بذل المجهود في حل سنن أبي داود “ : وأما إذا کان عند رجل مال خبیثٌ ، فأما إن ملکه بعقد فاسد أو حصل له بغیر عقد ، ولا یمکنه أن یرده إلی مالکه ، ویرید أن یدفع مظلمته عن نفسه فلیس له حیلة إلا أن یدفعه إلی الفقراء ؛ لأنه لو أنفق علی نفسه فقد استحکم ما ارتکبه من الفعل الحرام ۔۔۔۔۔ أو أضاعه واستهلکه، فدخل تحت قوله ﷺ : ” نهی عن إضاعة المال “ ۔ فیلزم علیه أن یدفعه إلی الفقراء، ولکن لا یرید بذلک الأجر والثواب ، ولکن یرید دفع المعصیة عن نفسه ۔ اه ۔

(۳۵۹/۱ ،۳۶۰ ، کتاب الطهارة ، باب فرض الوضوء ، ط : دار البشائر الإسلامیة بیروت ، و :۳۷/۱ ، ط : مکتبه خلیلیه سهارنفور ، و :۳۷/۱ ، ط : مکتبه قاسمیه ملتان ، رقم : ۵۹)

ما في ” رد المحتار “ : الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالاً مختلطاً مجتمعًا من الحرام ، ولا یعلم أربابه ولا شیئًا منه بعینه حل له حکمًا ، والأحسن دیانة التنزه عنه ۔

(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالاً حرامًا ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت ، الفتاوی الهندیة : ۳۴۹/۵ ، کتاب الکراهیة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۶/۴ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔