لائٹ میٹر(Light Meter) بند کرنا یا کروانا اور اس پر پیسے لینا!

(فتویٰ نمبر: ۷۳)

سوال:

۱– آج کل ہمارے شہروں میں لوڈ شیڈنگ(Load Shedding) کا مسئلہ چل رہا ہے، اور دن رات میں ۶/ یا ۹/ گھنٹے لوڈ شیڈنگ (Load Shedding) کا سسٹم چلتا ہے،جس کی بنا پر بڑے بڑے کارخانے، فیکٹری اور بیکری والوں کا کافی مالی نقصان ہوتا ہے،جس کی وجہ سے یہ لوگ سرکاری تاروں پر آنکڑا ڈال کر ڈائریکٹ (Direct)بجلی لیتے ہیں؛لہٰذا ایسی صورت اختیار کرنا کیسا ہے ؟شریعت اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں؟

۲– ہمارے علاقے میں سرکاری آفیسروں نے پرانے لائٹ میٹر(Light Meter) نکال کر جدید قسم کے میٹر فیڈ(Fedd) کیے ہیں، تاکہ کوئی اس میں کسی قسم کی چوری نہ کرسکے، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ جو اس ہنر میں ماہر ہیں وہ ان جدید میٹروں کو بھی کوئی طریقہ اختیار کرکے بند کردیتے ہیں اور اس پر پیسہ لیتے ہیں،اور خود لوگ بھی ایسا کراتے ہیں تاکہ لائٹ بل(Light Bill) کم سے کم آئے، تو ایسا طریقہ اختیار کرکے اس پر پیسہ لینا دینا جائز ہے یا نہیں؟قانوناً،قضاء ً دیانتاً اور شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

سوال میں مذکور دونوں صورتوں میں؛ آنکڑے ڈال کر بجلی حاصل کرنا، اسی طرح میٹر (Meter)کو روک دینا یا دھیمی اور سست رفتار کردینا،خواہ یہ عمل ازخود کرے یا کسی ماہرِ فن کو پیسہ دے کر کرائے، بہر صورت چوری اور بد دیانتی جیسے عظیم گناہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام ہے (۱)، کیوں کہ یہ ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی چوری اور اس کے ساتھ بد دیانتی ہے، اس لیے کہ حکومت کی چیز پوری قوم کی ملک ہوا کرتی ہے، اور دوسرے کی چیز اس کی اجازت(Permission) کے بغیر استعمال کرنا شرعاً حرام ہے۔(۲) لوڈ شیڈنگ (Load shedding)کی وجہ سے کارخانے، فیکٹری اور بیکری والوں کو جو نقصان ہوتا ہے، شرعاً یہ ایسا امر نہیں کہ اس کی وجہ سے چوری اور بد دیانتی جائز ہو، کیوں کہ فقہ اسلامی کا یہ قاعدہ ہے:” اَلضَّرَرُ الأَشَدُّ یُزَالُ بِالضَّرَرِ الأَخَفِّ“۔ کہ ہلکا اور خفیف نقصان اُٹھاکر بڑے نقصان سے بچا جائے گا۔ (درر الحکام :۴۰/۱، المادة :۲۷) اور اہلِ دین کے نزدیک یہ بات معلوم و متعین ہے کہ دینی نقصان مالی نقصان سے بڑا ہے؛ اس لیے اس سے کلی اجتناب برتیں اور چند روزہ زندگی کی خاطر ابدا لآباد کی زندگی کو خراب وبرباد نہ کریں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” لا یزني الزاني حین یزني وهو موٴمن ، ولا یشرب الخمر حین یشرب وهو موٴمن ، ولا یسرق حین یسرق وهو موٴمن ، ولا ینتهب نهبة یرفع الناس إلیه فیها أبصارهم وهو موٴمن “۔ (ص/۱۱۹۹ ، کتاب الحدود ، باب ما یحذر من الحدود ، رقم : ۶۷۸۲)

ما في ” تعلیق بدائع الصنائع “ : وأخذ السرقة حرام ، ویدل لذلک الکتاب والسنة والإجماع ۔ أما الکتاب فقوله تعالی: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا أَیْدِیَهمَا جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِنَ اللّٰه، وَاللّٰه عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾۔ (سورة المائدة : ۳۸) ۔ فإن اللّٰه قد رتب وجوب قطع الأیدي علی السرقة عقوبة للسارق، وهذه العقوبة الشدیدة لا تکون إلا علی فعل محرم شرعًا لما فیها من شدید الإیذاء، لا سیما وأنها علی جهة النکال من اللّٰه العزیز الحکیم۔ وأما السنة: فأولاً ما رواه الحاکم من حدیث حجة الوداع، أن رسول اللّٰه ﷺ قال :”لا یحل لإمرئ من مال أخیه إلا ما أعطاه عن طیب نفس“ ۔ فإن نفي الحل یقتضي الحرمة، فأخذ مال الغیر حرام إلا إذا طابت به نفسه ، والسرقة أخذ مال الغیر من غیر طیب من نفسه فتکون محرمة ۔ وثانیًا ما رواه مسلم عن أبي هریرة قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لعن اللّٰه السارق یسرق البیضة فتقطع یده، ویسرق الحبل فتقطع یده “ ۔ فإن اللعن علی الفعل دلیل حرمته ۔ خصوصًا إذا صاحب اللعن ترتب العقوبة علی الفعل کما هنا ۔ وأما الإجماع : فقد اتفقت کلمة المجتهدین من السلف والخلف علی حرمتها ۔

(۲۷۹/۹ ، کتاب السرقة ، فصل في رکن السرقة ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : قال اللّٰه تعالی : ﴿یٰأَ یُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا تَاْٴکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالبَاطِلِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)

ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : ذکروا في تفسیر الباطل وجهین : الأول أنه إسم لکل ما لا یحل في الشرع کالربا والغصب والسرقة والخیانة وشهادة الزور ۔ اه ۔ قوله تعالی : ﴿لا تَاْٴکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالبَاطِلِ﴾ ۔ یدخل تحته أکل مال الغیر بالباطل ۔ (۵۶/۴،۵۷)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه ۔ (۹۶/۱، المادة :۹۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۵/۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔