مسئلہ:
کچھ لوگ لال پیلا پانی (پانی میں چونا اور ہلدی ملاکر) انسان کے اوپر سے اتارتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ نظر اتارنے کے لیے جھاڑو کی کڑیاں اوپر سے اتار کر جلاتے ہیں، اور بعض لوگ باہر سے گوشت وغیرہ بھیجتے وقت ساتھ میں لال مرچ اور کوئلہ رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ ساتھ رکھنے سے شیطان اور جن کا اثر نہیں ہوتا، یہ چیزیں ناجائز اور توہماتِ باطلہ کے قبیل سے ہیں، اِن سے مسلمانوں کو احتراز کرنا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿قل لن یصیبنا إلا ما کتب الله لنا هو مولٰنا وعلی الله فلیتوکّل الموٴمنون﴾۔ (سورة التوبة:۵۱)
ما في ” روح المعاني “ : أي لن یصیبنا إلا ما خط الله لأجلنا في اللوح ولا یتغیر بموافقتکم ومخالفتکم، فتدل الآیة علی أن الحوادث کلها بقضاء الله تعالی۔ (۱۶۶/۶)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: ” أبغض الناس إلی الله ثلاثة: ملحد في الحرم، ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “ ۔ رواه البخاري ۔(ص:۲۷، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : من اعتقد أن شیئًا سوی الله ینفع أو یضرّ بالإشراک فقد أشرک جلیًا۔ (۳۹۸/۸، کتاب الطب والرقی، باب الفال والطیرة، رقم:۴۵۸۴)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۲۷۴۹۳)
