(فتویٰ نمبر: ۲۳۲)
سوال:
میرا ایک بھائی ہے، میرے دل میں اس کے بارے میں کوئی برائی نہیں ہے، لیکن میں احتیاطاً اس سے دور رہتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم آپس میں زیادہ میل ملاپ رکھتے ہیں، تو آخر کار کسی بھی بات پر جھگڑا ہوہی جاتاہے؛ اس لیے میں ان سے صرف سلام پر ہی اکتفا کیا کرتا ہوں، تاکہ جھگڑا نہ ہو، باقی کوئی اور بات نہیں ہے، توکیا میرا ایسا کرنا قطع رحمی میں شمار ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر یہ اندیشہ یا یقین ہے کہ زیادہ میل ملاپ کی صورت میں جھگڑا پیدا ہوجائے گا، تو پھر اس صورت میں آپ کے لیے اپنے بھائی سے الگ رہنا، بشرطیکہ سلام وکلام جاری ہو، جائز ہے، اور یہ قطع رحمی میں داخل نہیں ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” فتح الباري لابن حجر العسقلاني “ : قال ابن عبد البر : أجمعوا علی أنه لا یجوز الهجران فوق ثلاث إلا لمن خاف من مکالمةٍ ما یفسد علیه دینه، أو یدخل منه علی نفسه، أو دنیاه مضرةً، فإن کان کذلک جاز، ورب هجر جمیل خیر من مخالطة موٴذیةٍ۔
(۶۰۹/۱۰ ، کتاب الأدب ، باب الهجرة ، رقم : ۶۰۷۷، بذل المجهود في حل سنن أبي داود : ۳۱۹/۱۳ ، کتاب الأدب ، باب في هجرة الرجل أخاه)
(مرقاة المفاتیح علی مشکوة المصابیح : ۲۳۰/۹ ، رقم : ۵۰۲۷) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۵/۲۳ھ
