مسئلہ:
والدین کو راضی رکھنا اور ان کی خوشی کواپنی خوشی پر مقدم رکھنا بچوں کیلئے سعادت کی بات ہے، لیکن اگر وہ ایسی جگہ شادی کرنا چاہیں، جہاں لڑکے یا لڑکی کی طبیعت بالکل آمادہ نہیں ، اور وہ جانتے ہیں کہ نکاح کے بعد ایک دوسرے کے حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرسکیں گے، نباہ نہیں ہوگا، جو والدین کیلئے بھی کوفت کا سبب بنے گا، اس مجبوری سے شادی سے انکار کرسکتے ہیں ، ان شاء اللہ وہ نافرمانی کے گنہگار نہیں ہوں گے، مگر بچوں کو چاہیے کہ نرمی سے والدین کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے پوری بات ان کے سامنے پیش کردیں ، پھر بتادیں کہ فلاں جگہ شادی کرنا مناسب ہے، اورانہیں اعتماد میں لے کر اس جگہ شادی کرلیں، البتہ اگر بالغ لڑکی والدین یا اولیاء کی رضامندی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرلے گی، تو والدین اور دیگر اولیاء کو حق اعتراض حاصل ہوگا، اوروہ قاضی کی عدالت میں اس نکاح کے فسخ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وقضیٰ ربک أن لا تعبدوا إلا إیاه وبالوالدین احساناً﴾ ۔(سورة بنی اسرائیل : ۲۳)
ما فی ” شرح الوقایة “ : نفذ نکاح حرة مکلفة ولو من غیر کفو بلا ولی۔
(۱۹/۲، کتاب النکاح، باب الولی والکفوء، النهر الفائق: ۲۰۲/۲، کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء)
ما فی ” مختصر القدوری “ : والکفاءة فی النکاح معتبرة، فإذا تزوجت المرأة بغیر الکفوء فللأولیاء أن یفرقوا بینهما۔ (ص:۱۶۰، کتاب النکاح)
ما فی ” شرح الوقایة “ : للولی الاعتراض فی غیر الکفو۔(۱۹/۲، کتاب النکاح ، باب الولي والکفو)
(فتاوی محمودیه: ۲۴۵/۱۶)
