مسئلہ:
آج کل مختلف کمپنیاں اپنے ناقص سامان کو زیادہ سے زیادہ فروخت کرنے کے لیے مختلف اسکیمیں بناتی ہیں، جیسے لکس صابن(Lux soap)کی کمپنی نے ایک اسکیم لانچ (Launch)کی کہ لکس صابن(Lux soap)خریدنے پر پاوٴ، ایک سونے کا سکہ بالکل مفت، اوربن جاوٴ راتوں رات کروڑپتی،اسی طرح بسکٹ کی کمپنی ہے جس کا نام بریٹانیہ (Britaniya)ہے ، اس کمپنی نے ایک اسکیم جاری کی تھی کہ اگر بریٹانیہ کے بسکٹ کے پیکٹ پر تمہیں کوئی لکی نمبر مل جائے ، تو ہم تمہیں ورلڈ کپ کی (چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہو پاسپورٹ اور ویزا کے ساتھ) فری ٹکٹ دیں گے، یہ انعامی اسکیم غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ ظلم ہے، اس لیے کہ یہ انہیں بے جا فضول خرچی ،اورغیر ضروری خریداری کی طرف انعام کی لالچ میں راغب کرتی ہے، جس کے نتیجہ میں ایک عام آدمی کے محدود مالی وسائل نہ صرف متأثر ہوتے ہیں،بلکہ وہ اس سے مالی مشکلات اور ذہنی پریشانیوں کا شکار ہوتاہے، کیوں کہ اس طرح کی اسکیموں میں کمالِ ہوشیاری سے ایسے حربے اپنائے جاتے ہیں، کہ اولاً تو سونے کا سکہ یالکی(Lucky) نمبر نکلتا ہی نہیں، اور نکلتا بھی ہے تو لاکھوں خریداروں میں سے ایک آدھ کا، نتیجةً خریدار کے لیے سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا،شرعاً ایسی خرید وفروخت ناجائز اور فاسدہے (۱)کہ جس میں کوئی ایسی خارجی شرط لگائی جائے، جس میں فریقین میں سے کسی ایک کا نفع ہو، نیز اس میں دھوکہ دہی ،غَررِ کثیر(۲) اور قمار(جوا)(۳) بھی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “: ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾ ۔(سورة النساء :۲۹)
ما في ” البحر المحیط لأبي حیان “ : قال أبوحیان رحمه الله تعالی : الباطل هوکل طریق لم تبحه الشریعة ، فیدخل فیه السرقة والخیانة والغصب والقمار وعقود الربا وأثمان البیاعات الفاسدة ۔(۳۲۲/۳)
(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : ولما جاء في الحدیث : عن أبي هریرة قال : ” نهیٰ رسول الله ﷺ عن بیع الغرر وبیع الحصاة “ ۔ (۲۳۳/۱ ، الصحیح لمسلم :۲/۲)
ما في ” نصب الرایة للزیلعي “ : وروي أن النبي ﷺ نهیٰ عن بیع وشرط ۔ (۴۳/۴)
ما في ” جامع الترمذي “ : ونهیٰ رسول الله ﷺ عن بیعتین في بیعة ۔ (۲۳۳/۱)
(۳) ما في”القرآن الکریم“:قوله تعالیٰ:﴿ یا أیها الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾۔(سورة المائدة : ۹۰)
ما في ” الشامیة “ : قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی : وسمي القمار قمارًا ، لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه ، وهو حرام بالنص ۔ (۵۷۷/۹ ، ۵۷۸ ، الحظر والإباحة ، باب الاستبراء ، فصل في البیع)
