مسئلہ:
فرش ودیواریں صاف ستھری رہیں، بار بار چونا کرانے کی ضرورت پیش نہ آئے، اس لئے آج کل فرش ودیواروں پر ماربل اور ٹائلس لگانے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے، ٹائلس چونکہ سمینٹ ، چونا وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، جو زمین کی جنس سے ہے، اور جس چیز پر تیمم کیا جارہا ہو، اس کا زمین کی جنس سے ہونا ضروری ہے، یعنی اس میں زمین کے اندر پائے جانے والے اجزاء شامل ہوں، اور انہیں معمول کی آگ میں جلایا جائے، تو وہ نہ راکھ بن جائیں اور نہ پگھل جائیں، یہ ضروری نہیں کہ وہ گرد آلود ہوں، اسی لئے فقہاء کرام نے پتھر پر بھی تیمم کی اجازت دی ہے، لہذا ماربل وٹائلس پر تیمم کرنا درست ہوگا، خواہ ان پر گردو غبار لگاہو یا نہ لگا ہو ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی” القرآن الکریم“:﴿فإن لم تجدوا مآءً فتیمّموا صعیدًا طیبًا﴾ ۔ (سورة المائدة :۶)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبوحنیفة : یجزی التیمم بکل ما کان من الأرض ، التراب والرمل والحجارة والزرنیج والنورة والطین الأحمر والمرداسنج ۔ (۴۸۷/۲)
ما فی ” صحیح البخاری “ : قال أبو الجهیم : ” أقبل النبی ﷺ من نحو بئر جمل ، فلقیه رجل فسلم علیه ، فلم یرد علیه النبی ﷺ حتی أقبل علی الجدار فمسح بوجهه ویده ثم رد علیه السلام“ ۔ (۴۸/۱ ، کتاب التیمم)
ما فی ” المبسوط للسرخسي “ : وکل شيء من الأرض تیمم به من تراب أو جص أو نورة أو زرنیج فهو جائز ۔ (۲۴۶/۱ ، باب التیمم)
ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : تیمم ۔۔۔۔ بمطهر من جنس الأرض وإن لم یکن علیه نقع ۔ تنویر ۔ وفي الشامیة : قال الشامي رحمه الله : قوله : (من جنس الأرض) الفارق بین جنس الأرض وغیره أن کل ما یحترق بالنار فیصیر رمادًا کالشجر والحشیش ویلین کالحدید والصفر والذهب والزجاج ونحوها فلیس من جنس الأض۔
(۳۵۸/۱ ، ۳۵۹ ، کتاب الطهارة ، باب التیمم)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وبالحجر علیه غبار أو لم یکن بأن کان مغسولا أو أملس مدقوقاً أو غیر مدقوق ۔کذا فی فتاوی قاضی خان ۔ (۲۷/۱ ، الباب الرابع فی التیمم)
