مسئلہ:
اگر کوئی شخص مالدار (صاحبِ نصاب) ہو، اور اس نے ابھی تک قربانی نہیں کی تھی کہ ایامِ قربانی ہی میں اس کا انتقال ہوگیا، تو اس کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوگئی، کیوں کہ وجوبِ قربانی، ادائے قربانی کے وقت ثابت ہوتا ہے، یا پھر آخر وقت میں، اب جب اس شخص نے قربانی نہیں کی اور نہ آخر وقت تک زندہ رہا، تو اس پر قربانی واجب ہی نہیں ہوئی، جیسے کوئی شخص نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد، اُس کو ادا کرنے سے پہلے ہی مرجائے، تو اس پر اُس وقت کی نماز واجب نہیں ہوتی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الهندیة “ : ولو مات الموسر في أیام النحر قبل أن یضحي سقطت عنه الأضحیة۔ (۲۹۳/۵، الباب الأول)
وما في ” الهندیة “ : یعتبر آخر أیام النحر في الفقر والغنی والموت والولادة۔(۲۹۶/۵، الباب الرابع فیما یتعلق بالمکان والزمان)
وفیه أیضاً : ولو کان موسراً في أیام النحر فلم یضح حتی مات قبل مضي أیام النحر سقطت عنه الأضحیة حتی لا یجب علیه الإیصاء۔
(۲۹۷/۵، الباب الرابع فیما یتعلق بالمکان والزمان)
ما في ” بدائع الصنائع “ : ولو مات الموسر في أیام النحر قبل أن یضحي سقطت عنه الأضحیة، وفي الحقیقة لم تجب لما ذکرنا أن الوجوب عند الأداء أو في آخر الوقت، فإذا مات قبل الأداء مات قبل أن تجب علیه کمن مات في وقت الصلاة قبل أن یصلیها أنه مات ولا صلاة علیه۔ (۲۸۹/۶، کتاب التضحیة ، فصل في کیفیة الوجوب)
