مالدار صاحبِ نصاب بیوی پر قربانی

مسئلہ:

اگر بیوی مالدار صاحب نصاب ہے، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیز یں ہیں، کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، تو اس پر قربانی واجب ہے، اور اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے ایک حصہ قربانی کرے، رہا شوہر! تو اس پر بیوی کی طرف سے قربانی کرنا ضروری نہیں، لیکن اگر وہ بیوی کی اجازت سے اس کیلئے بھی ایک حصہ قربانی کرے گا، تو بیوی کی طرف سے قربانی ادا ہوجائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وشرائطها الإسلام والإقامة والیسار الذی یتعلق به وجوب صدقة الفطر لا الذکور فتجب علی الأنثیٰ ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامي: قوله: (الیسار) بأن ملک مأتي درهم أو عرضا یساویها غیر مسکنة ۔۔۔۔۔۔ یحتاجه إلی أن یذبح الأضحیة۔(۳۷۹/۹، کتاب الأضحیة)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : (وأما شرائط الوجوب) منها الیسار، وهو ما یتعلق به وجوب صدقة الفطر۔ (۲۹۲/۵، کتاب الأضحیة، الباب الأول)

ما فی ” مجمع الأنهر “ : وشرائطها الإسلام والیسار الذی یتعلق به صدقة الفطر فتجب علی الأنثیٰ۔(۱۶۶/۴، کتاب الأضحیة، البحر الرائق: ۳۱۷/۸)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولیس علی الرجل أن یضحی عن أولاده الکبار وامرأته إلا بإذنه۔ (۲۹۳/۵، کتاب الأضحیة، الباب الأول)

اوپر تک سکرول کریں۔