مسئلہ:
بعض لوگ ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے ہیں اس لئے نہ تو اس میں شادیاں رچاتے ہیں اور نہ کوئی تعمیری کام کرتے ہیں ،نہ کسی امرِ عظیم کا افتتاح کرتے ہیں، نہ اس کے لئے کو ئی پلان ومنصوبہ بناتے ہیں ۔
دوسری جانب بعض لوگ ماہِ صفر کے آخری بدھ کو مبارک ومسعود خیال کرتے ہیں ، عمدہ کھانا پکاتے ہیں ، شہر سے باہر پکنک کے لئے نکلتے ہیں ، اس دن کو خوشی ومسرت کا دن سمجھتے ہیں ، جبکہ یہ دونوں باتیں عقائدِ اسلام اور تاریخِ اسلام کے سراسر منافی ومخالف ہیں، کیونکہ عقائدِ اسلام میں کسی یوم وماہ(دن اور مہینہ) کو منحوس سمجھنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ تاریخِ اسلام سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺنے ماہِ صفر کے آخری بدھ کو غسلِ صحت فرمایا، کیونکہ صفر کے آخر میں تو آپ کا مرض شروع ہوا، پہلے بخار ہوا ،سر میں درد ہواپھر تکلیف بڑھتی گئی اور ۱۲؍ ربیع الاول کو آپ کا وصال ہوا۔
اگر آخری بدھ کے دن منعقد کی جانے والی تقریبات میں ثواب کا اعتقاد رکھا جائے تویہ بدعت ہے، لھذا اس طرح کے عقیدے اوررسومات سے کلی اجتناب برتاجائے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {قل لن یصیبنا إلا ما کتب الله لنا هو مولٰینا} ۔ (سورة التوبة:۱۵)
ما في ’’الصحیح للبخاري‘‘:’’ لا عدوی ولا طیرة ولا هامة ولا صفر ‘‘۔ ( ۸۵۷/۲)
ما في ’’کتاب التوحید‘‘: التطیر هو التشاء م بمرئي أو بمسموع أو معلوم کالتشاء م ببعض الأیام أو بعض الشهور أو بعض السنوات فهذه لا تری ولا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوله : (ولا صفر) قیل إنه شهر صفر کانت العرب یتشاء مون به لا سیما في النکاح ۔ (۹۳/۲، باب ما جا ء في التطیر)
ما في ’’الکامل في التاریخ لإبن کثیر‘‘: ابتدأ برسول الله مرضه أواخر صفر في بیت زینب بنت جحش ۔ (۲۱۵/۲)
ما في ’’العقد الثمین في تاریخ البلد الأمین للإمام تقي الدین محمد بن أحمد الحسیني الفاسي المکي المتوفی سنة [۸۳۲ ھجـ]‘‘:۔۔۔۔۔۔ ثم سریة أسامة رضي الله عنه إلی أهل أبناء ، بالسراة ناحیة بالبلقاء یوم الإثنین لأربع لیال بقین من صفر سنة إحدی عشرة لغزو الروم مکان قتل أبیه فلما کان یوم الأربعاء بدأ بالنبي ﷺ وجعه فحم وصدع فتوفی علیه الصلاة والسلام شهیدًا حین زاعت الشمس من ذلک الیوم یوم الإثنین لإثنتي عشرة لیلة خلت من ربیع الأول حین اشتد الضحی۔(۴۱۲/۱)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: البدعة عرفها الشمني بأنها ما أحدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول اللهﷺمن علم أو عمل أو حال بنوع شبھة أو استحسان وجعل دیناً قویماً وصراطاً مستقیماً۔ (۲۵۶/۲، کتاب الصلوة ، مطلب : البدعة خمسة أقسام ، البحر الرائق :۶۱۱/۱، باب الإمامة)
