ما لکِ زمین کا بلڈر سے فلیٹس خریدنے کا حکم شرعی

مسئلہ:

آج کل ملک کے بڑے بڑے شہروں میں بلڈنگ ڈیولپمنٹ کا کام اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کی زمین ہوتی ہے، دوسرا شخص (بلڈر ) اس پر بلڈنگ بناتا ہے ، دونوں کے درمیان یہ معاملہ طے پا تا ہے کہ تعمیر کے بعد مثلاً سو (۱۰۰) فلیٹس ہیں تو ان میں سے چالیس (۴۰) فلیٹس مالکِ زمین کے اور ساٹھ (۶۰) فلیٹس بلڈریعنی بلڈنگ بنانے والے کے ہونگے ، اور بعد از تقسیم دونوں اپنے فلیٹس فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کے مُجاز ہوتے ہیں ، شرعاً یہ صورت جائز ہے، کیوں کہ مالکِ زمین نے فلیٹس کے بدلہ زمین دی اور بلڈر نے زمین کے بدلہ فلیٹس دیئے اور جس طرح روپیہ سے کوئی چیز خریدی جاسکتی ہے ، ایسے ہی سامان کے بدلہ بھی خرید وفروخت ہوسکتی ہے، فقہ کی اصطلاح میں اسے بیعِ مقایضہ کہتے ہیں ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’  القرآن الکریم  ‘‘: {أحل الله البیع وحرم الربوا} ۔ (سورة البقرة:۲۷۵)

ما في ’’ العنایة شرح الهدایة ‘‘: البیع في الشرع هو مبادلة المال بالمال بالتراضي بطریق الاکتساب ۔ (۴۵۷/۳ ، کتاب البیوع)

ما في ’’ القواعد والضوابط الفقهیة للأحکام المبیع في الشریعة الإسلامیة ‘‘: أنواع البیع باعتبار البدلین یرجع إلی أربعة أقسام : أولاً بیع المقایضة وهو بیع العین بالعین والسلعة بالسلعة وصورة هذا البیع أن یعطي الفلاح التاجر قمحاً ویأخذ بدلاً منه خضاراً أو فاکهة أو أرزاً أو سکراً ونحوها ۔ (ص:۴۸)

ما في ’’ بدائع الصنائع‘‘: ۔۔۔۔۔۔ أما الأول فنقول : البیع في حق البدلین ینقسم أربعة أقسام : بیع العین بالعین وهو بیع السلع بالسلع ویسمی بیع المقایضة ۔

(۵۳۲/۶، کتاب البیوع ، فصل في شروط الرکن ، حاشیة الهدایة:۲/۲، حاشیة القدوري: ص:۷۰)

ما في’’شرح المجلة لسلیم رستم باز ‘‘:بیع المقایضة بیع العین بالعین أي مبادلة مال بمال غیر النقدین۔(ص:۶۹، المادة:۱۲۲،درر الحکام شرح مجلة الأحکام:۱۲۲/۱،المادة:۱۲۲)

ما في ’’ معجم لغة الفقهاء ‘‘ : بیع المقایضة : أن تباع السلعة بسلعة أخری لا بنقد ۔ (ص:۱۱۴)

ما في ’’ القاموس الفقهي ‘‘: السلعة کل ما یتجر به من البضاعة ۔ (ص:۱۸۰)

اوپر تک سکرول کریں۔