مبتدئہ حائضہ کی مدتِ حیض،مبتدئہ نفسا کا دمِ نفاس چند روز پر بند ہوگیا،معتادہ حائضہ ونفسا کا دم عادت سے کم پر بند ہوا،عورت معتادہ کب ہوتی ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۳۷)

سوال:

۱– مبتد ئہ حائضہ کی مدتِ حیض کتنی ہوگی؟اگر کسی عورت کو اول بار حیض آیا اور صرف پانچ دن پر بند ہوا، تو اب ان پانچ دن سے لے کر دس روز مکمل ہونے کے درمیان اگر خون بند رہے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

۲- مبتدئہ نفسا کا دمِ نفاس چند روز ہی پر بند ہوا، تو اب انقطاعِ دم سے لے کر چالیس روز کے درمیان نمازوں کا کیا حکم ہوگا ؟نیز مدتِ نفاس کتنی ہے؟

۳- معتادہ حائضہ اور معتادہ نفسا کا دمِ حیض ودمِ نفاس ایامِ عادت سے کم پر بند ہو، تو بوقتِ انقطاعِ دم سے ایامِ عادت مکمل ہونے کے درمیان نمازوں کا حکم کیا ہوگا ؟

۴- عورت معتادہ کب ہوتی ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– مبتدئہ حائضہ کی مدتِ حیض دس دن ہے۔(۱)

۲– اگر کسی عورت کو اول بار حیض آیا اور صرف پانچ دن پر بند ہوا، تو اس کے لیے اس وقت کی نماز کے اخیر وقتِ مستحب تک غسل کو موٴخر کرنا مستحب ہے، اب اگر خون جاری ہوجائے تو نماز کو چھوڑ دے، اور اگر خون بند رہے، تو غسل کرکے نماز پڑھنا واجب ہے، اور اگر بلا تاخیر غسل کرکے نماز پڑھ لے، تو گنہگار نہیں ہوگی۔(۲)

۳– نفاس کی اقلِ مدت غیر متعین ہے، اگرایک گھڑی بھی ولادت کے بعد خون دکھائی دے، تووہ بھی نفاس ہے اوراکثر مدت چالیس دن ہے۔(۳)

اگر مبتدئہ نفسا کا دمِ نفاس چند روز ہی پر بند ہوجائے، تو اس وقت کی نماز کے اخیر وقتِ مستحب کا انتظار کرے ،اگر اخیر وقت میں خون جاری ہوجائے تو نماز چھوڑ دے، اور اگر اخیروقت تک بند رہے تو غسل کرکے نماز پڑھے،کیوں کہ وہ پاک ہوگئی، لیکن اگر کچھ دن کے بعد پھر خون دکھائی دے تو حکمِ طہارت باطل ہوگا اور یہ نفاس شمار ہوگا، کیوں کہ حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس کا وقت چالیس دن متعین کیا ہے، مگر یہ کہ اس سے پہلے طہر دیکھ لے،یعنی اگر چالیس دن سے پہلے طہر دکھائی دے تو وہ پا ک ہوگئی اور اس پر نماز پڑھنا واجب ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ سننِ ترمذی میں فرماتے ہیں کہ اصحابِ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،تابعین، اور تبعِ تابعین کا اس پر اتفاق ہے کہ نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے، مگر یہ کہ وہ طہر دیکھ لے۔(۴)

۴-اگر معتادہ حائضہ ونفسا کا دمِ حیض ونفاس ایامِ عادت سے کم پر بند ہو، تووقتِ انقطاعِ دم سے ایامِ عادت مکمل ہونے تک احتیاطاً نمازوں کو ادا کرے گی، او راگر ماہِ رمضان ہو تو روزے بھی رکھے گی۔

نوٹ-: مذکورہ صورت میں ایامِ عادت سے کم پر خون بند ہونے کی وجہ سے اگر چہ عورت غسل کرکے احتیاطاً نماز روزہ ادا کرے گی، مگر مرد کے لیے عادت مکمل ہونے تک اس سے جماع کرنا مکروہ ہے۔(۵)

۶– مبتدہٴ حائضہ کو اول بار جتنے دن حیض آیا وہی اس کے ایام عادت شمار ہوں گے اور وہ عورت معتادہ کہلائے گی۔ (۶)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” حاشیة ابن ماجة “ : وإن کانت مبتدئة فحیضها أکثر المدة ۔(السنن لابن ماجة : ص/۴۶)

ما في ” رد المحتار “ : الحاصل أن المبتدأة إذا استمر دمها فحیضها في کل شهر عشرة ، وطهرها عشرون کما في عامة الکتب ، بل نقل نوح أفندي الاتفاق علیه ۔

(۴۷۸ ، باب الحیض ، بدائع الصنائع :۲۹۶/۱)

(۲) ما في ” شرح الوقایة “ : أو کانت مبتدأة فتأخیر الاغتسال بطریق الاستحباب ۔ قوله : بطریق الاستحباب أي یستحب له تأخیر الغسل إلی آخر الوقت لمجرد الاحتیاط وطلب التوثق في الدین ، ولا یجب ذلک علیها ، فإن اغتسلت وصلت بدون التأخیر لم تأثم لعدم کون العود مظنونًا في حقها ۔(۱۱۸/۱)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ومتی طهرت المبتدأة دون العشرة ، أو المعتادة دون عادتها أخرت الوضوء والاغتسال إلی آخر الوقت بحیث لا تدخل الصلاة في الوقت المکروه ۔

(۳۹/۱)

(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : أقل النفاس ما یوجد ولو ساعة ، وعلیه الفتوی ، وأکثره أربعون ۔(۳۷/۱)

ما في ” رد المحتار “ : منها أنه (لا حدّ لأقله) ۔ (وأکثره أربعون) ۔کذا رواه الترمذي وغیره ۔(۴۹۷/۱ ، باب الحیض)

(۴) ما في ” السنن لابن ماجة “ : عن أنس – رضي اللّٰه عنه – قال : ” کان رسول اللّٰه ﷺ وقت للنفساء أربعین یومًا إلا أن تری الطهر قبل ذلک “ ۔ (ص/۴۷)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أم سلمة – رضي اللّٰه عنها – قالت : ” کانت النفساء تجلس علی عهد رسول اللّٰه ﷺ أربعین یومًا وکنا نطلي وجوهنا بالورس من الکلف “ ۔۔۔۔۔۔ وقد أجمع أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ والتابعین ومن بعدهم علی أن النفساء تدع الصلاة أربعین یومًا ، إلا أن تری الطهر قبل ذلک فإنها تغتسل وتصلي ، فإذا رأت الدم بعد الأربعین ، فإن أکثر أهل العلم قالوا : لا تدع الصلاة بعد الأربعین وهو قول أکثر الفقهاء ، وبه یقول سفیان الثوري وابن المبارک والشافعي وأحمد وإسحق ۔

(۳۶/۱ ، السنن لأبي داود : ص/۴۳)

ما في ” تبیین الحقائق “ : والنفاس في جمیع ما ذکر من الأحکام کالحیض ۔ (۱/ ۱۶۵)

ما في ” رحمة الأمة في اختلاف الأئمة “ : وأجمعوا علی أنه یحرم بالنفاس ما یحرم بالحیض ۔(ص/۷۱۹)

(۵) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : لو انقطع دمها دون عادتها یکره قربانها ، وإن اغتسلت حتی تمضي عادتها، وعلیها أن تصلي وتصوم للاحتیاط ۔ هکذا في التبیین ۔(۱/ ۳۹)

ما في ” رحمة الأمة في اختلاف الأئمة “ : وأجمعوا علی أنه یحرم بالنفاس ما یحرم بالحیض ۔(ص/۷۱۹)

ما في ” تبیین الحقائق “ : والنفاس في جمیع ما ذکر من الأحکام کالحیض ۔ (۱/ ۱۶۵)

ما في ” رد المحتار “ : وإن انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت ، وإن لأقله فإن لدون عادتها لم یحل ، وتغتسل وتصلي وتصوم احتیاطًا ، وإن لعادتها ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (لم یحل) أي الوطء وإن اغتسلت ؛ لأن العود في العادة غالب ۔ (۴۹۰،۴۸۹/۱، کتاب الطهارة ، باب الحیض)

(۶) ما في ” التعلیق علی بذل المجهود “ : إن العادة تثبت بمرة واحدة ، وهو الأصح من مذهب الشافعیة والمالکیة ، وهو قول أبي یوسف ، وعلیه الفتوی ۔

(۳۲۸/۲ ، رقم الباب : ۱۰۹ ، المغني علی مختصر الخرقي : ۲۳۰/۱)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ذهب جمهور الفقهاء – الحنفیة والمالکیة ، وهو الأصح عند الشافعیة – إلی أن العادة تثبت بمرة في المبتدأة ، لحدیث أم سلمة – رضي اللّٰه عنها – ” أن امرأة کانت تهراق الدم علی عهد رسول اللّٰه ﷺ فاستفتیت لها رسول اللّٰه ﷺ فقال : ” لتنظر عدد الأیام واللیالي التي کانت تحیضهن من الشهر قبل أن یصیبها الذي أصابها ، فلتدع الصلاة قدر ذلک من الشهر ، فإذا خلفت ذلک فلتغتسل ثم لتستثفر بثوب ثم لتصل فیه “ ۔

(۳۰۲/۱۸ ، ط : وزارة الأوقاف والشوٴون الإسلامیة کویت) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۶/۳/۱۴۲۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔