متولی بننے کا مستحق کون ؟

مسئلہ:

اگر کوئی شخص مسجد کیلئے زمین وقف کرے اور اسکی تعمیر بھی اپنی ذاتی رقم سے کرے تو وہ خود یا اسکی اولاد متولی بننے کے حقدار ہیں ، اوراگر مسجد کی زمین چندے کی رقم سے خریدی گئی اور اسکی تعمیر بھی چندہ کی رقم سے کی گئی تواکثر مسلمان جس کو لائق تر سمجھیں اس کو متولی بنادیں، چندہ کرنے والا شخص متولی بننے کا حقدار نہیں ہے، مگر یہ کہ تمام مسلمان اس کے لائق تر ہونے کی وجہ سے اس کو متولی بنادیں تو وہ متولی ہو سکتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ولایة نصب القیم إلی الواقف ثم لوصیه لقیامه مقامه ۔۔۔۔۔۔۔ومادام أحد یصلح للتولیة من أقارب الواقف لا یجعل المتولي من الأجانب لأنه أشفق ومن قصده نسبة الوقف إلیھم ۔(۴۹۶/۶،۴۹۹، مطلب الوصي یصیر متولیاً بلا نص، مطلب لا یجعل الناظر من الأجانب عن الوقف)

ما في ’’ الشامیة ‘‘ :ثم ذکر عن التاتارخانیة حاصله أن أھل المسجد لو اتفقوا علی نصب رجل متولیاً لمصالح المسجد فعند المتقدمین یصح ولکن الأفضل کونه بإذن القاضي ۔

(۴۹۶/۶، مطلب الأفضل في زماننا نصب المتولي بلا إعلام القاضي)

ما في ’’البحر الرائق ‘‘ : وفي الخلاصة : إذا شرط الواقف أن یکون هو المتولي  عند أبي یوسف الوقف والشرط کلاھما صحیحان۔۔۔۔۔۔۔ وفي الخلاصة : إذا شرط في الوقف  الولایة لنفسه وأولاده في عزل القیم واستبداله لھم وما ھو من نوع الولایة  وأخرجه من ید المتولي جا ز۔(۵/ ۳۷۷)

ما في ’’ الإسعاف ‘‘ : لا یولی إلا أمین قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولایة مقیدة بشرط النظر ولیس من  النظر تولیة الخائن لأنه یخل بالمقصود۔ (۳۷۸/۵

(فتاوی دارالعلوم :۴۲۸/۱۳)

اوپر تک سکرول کریں۔