مسئلہ:
بعض متولیانِ مسجد کے پاس لوگ مسجد کی مصالح اور ضروریات کے لیے چندہ دیتے ہیں، تو وہ اِن روپیوں کو اپنے استعمال میں لیتے ہیں، اور بعد میں ان کو مسجد کے کسی کام میں خرچ کرتے ہیں، متولیوں کو ایسا کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ مسجدوں کے متولیان – چندہ دہندگان کے وکیل و اَمین ہیں، اُن کے لیے مسجد کے روپیوں کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البحر الرائق “ : وفي القنیة: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البیع له وإن کان فیه منفعة ظاهرة للمسجد۔
لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عیاله وإقراضه، فلو أقرضه ضمن، وکذا المستقرض۔ (۴۰۱/۵، کتاب الوقف، بیروت)
ما في ” فتاوی قاضیخان “ : رجل جمع مالا من الناس لینفقه في بناء المسجد وانفق من تلک الدراهم في حاجة نفسه ثم رد بدلها في نفقة المسجد لا یسعه أن یفعل ذلک وإذا فعل إن کان یعرف صاحب المال رد الضمان علیه أو یسأله لیأذن له بانفاق الضمان في المسجد، وإن لم یعرف صاحب المال یرفع الأمر إلی القاضي حتی یأمره بانفاق ذلک في المسجد، فإن لم یقدر علی أن یرفع الأمر إلی القاضي قالوا: نرجو له في الاستحسان أن ینفق مثل ذلک من ماله في المسجد فیجوز ویخرج عن الوبال فیما بینه وبین الله تعالی وفي القضاء یکون ضامنًا، فیکون ذلک دینًا علیه لصاحب المال۔ (۳۰۱/۴۔۳۰۲، کتاب الوقف، باب الرجل یجعل داره مسجدًا أو خانًا أو سقایة أو مقبرة)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۷۸۳۷)
