مختلف وارثین کے درمیان تقسیمِ ترکہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۸)

سوال:

ہماری والدہ کا انتقال بتاریخ: ۲۰۰۸/۶/۲۴، کو ہوا ہے، اور والد صاحب کا انتقال ۱۹۸۹ء میں ہوا تھا، ہمارے والدین نے سونے کے زیورات اور نقد ڈھائی لاکھ روپے، ایک مکان احمدآباد کے شاہ عالم علاقے میں، ایک مکان ہمارے وطن ہانسوٹ میں اور ایک کھیت چھوڑ کر گئے ہیں، ہم نے ڈھائی لاکھ روپے میں سے پچاس ہزارروپے مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے نکالے ہیں، باقی جتنی بھی ملکیت ہے وہ ہمیں ان کے وارثین میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنی ہے، تو ہم کس طرح تقسیم کریں؟ واضح ہو کہ ہم پانچ بھائی ہیں ان میں سے دو بھائیوں کا انتقال ہماری والدہ کی حیات میں ہی ہوگیا تھا۔

وارثین:

(۱) مرحوم عبد الرحیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی، ایک بیٹی

(۲) عبد العزیز ۔۔۔۔۔۔۔بیوی ، ایک بیٹا ، دو بیٹیاں

(۳)عبد الکریم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی بچے نہیں ہیں

(۴) عبد الغفار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیو ی ، دو بیٹیاں ، ایک بیٹا

(۵) مرحوم عبد الحمید۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی ، ایک بیٹی

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-آپ کے والد کا انتقال ۱۹۸۹ء میں ہوا، اور آپ کی والدہ کا انتقال ۶/۲۴/ ۲۰۰۸ء میں، توآپ کے والد کی وفات کے وقت ان کے وارثین میں ان کی بیوی یعنی آپ کی والدہ اور ان کے پانچ لڑکے تھے، ان کی کل جائدادِ منقولہ وغیر منقولہ۴۰/ حصوں میں تقسیم ہوکر(۱)، ہر لڑکے کو سات سات حصے(۲)، اور بیوی کو۵/ حصے(۳) ازروئے شرع ملیں گے۔

۲-آپ کی والدہ کی کل جائدادِ منقولہ وغیر منقولہ صرف تین حصوں میں تقسیم ہوکر(۴)، ایک ایک حصہ تینوں بیٹوں کو ملے گا(۵)، کیوں کہ مورِث کے انتقال کے وقت جو وارث زندہ ہو، وہی وراثت کا حق دار ہوتا ہے، لہٰذا مرحوم عبد الرحیم اور مرحوم عبد الحمید والدہ کی میراث سے حصہ پانے کے مستحق نہیں ہیں، اسی طرح مرحوم عبد الرحیم اور مرحوم عبد الحمید کی بیوہ اور بیٹی آپ کی والدہ کی وارث نہیں ہوں گی(۶)، البتہ پہلی صورت میں مرحوم عبد الرحیم اور عبد الحمید کو جو حصہ ان کے والد کی جائداد سے ملا اس کے علاوہ جو کچھ وہ چھوڑ کر گئے ،وہ ان کی بیوہ ،بیٹی اور والدہ میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک کا ترکہ اولاً آٹھ حصوں میں تقسیم ہوکر(۷)، ایک حصہ بیوہ کو ملے گا(۸)، اور پھر باقی ماندہ مال کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ والدہ کو(۹) اور تین حصے بیٹی کو دیئے جائیں گے(۱۰)۔

الحجة علی ما قلنا :

(۷،۴،۱) ما في ” السرجی فی المیراث “ : تتعلق بترکة المیت حقوق أربعة مرتبة الأل یبدأ بتکفینه و تجھیزه من ضیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه من جمیع مابقی من ماله، ثم تنفذ وصایاه من ثلث مابقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة واجماع الامة۔(ص:۳۔۵،مقدمه)

 (۵،۲) ما في ” السرجی فی المیراث “ : أما عصبة بنفسه۔۔۔۔۔۔۔۔الأقرب فالأقرب یرجحون بقرب الدرجة أعنی أولھم بالمیراث جزء المیت أی البنون ثم بنوھم وإن سفلوا۔

 (ص: ۳۶، أحوال العصبة بنفسه)

 (۸،۳) ما في ” القرآن الکریم “: ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)

(۶) مافی ’’ ردالمحتار ‘‘ : وشروطه ثلاثة: موت المورث حقیقة أو حکماً أو تقدیراً ووجود وارثه عند موته حیاً حقیقة أو تقدیراً کالحمل والعلم بجھة إرثه۔

(۴۹۱/۱۰، کتاب الفرائض)

(۹) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ وَلِأَبَوَیۡه لِكُلِّ وَ ٰ⁠حِدࣲ مِّنۡهمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَه وَلَدࣱ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

(۱۰) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ وَإِن كَانَتۡ وَا⁠حِدَةࣰ فَلَها ٱلنِّصۡفُ ﴾۔ (سورة النساء: ۱۱)فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۰/۲۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔