مختلف ڈیز (Days)اورغیر اسلامی تہواروں کا حکمِ شرعی!

(فتویٰ نمبر:۱۱۴)

سوال:

۱-کیا مسلمانوں کے لیے کافروں کی عیدوں اوربطورِعید منائے جانے والے دنوں (Days)میں شرکت کرناجائزہے ؟

۲-کیاانہیں ان کے مخصوص تہواروں کے موقع پر، مبارک بادی یا کوئی ہدیہ وغیر ہ پیش کرناجائز ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-دین کے عظیم اصولوں میں سے ایک اصول،اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مودّت ومحبت اور کافروں سے اظہارِ بے زاری وبرأت ہے۔

 ارشادِخداوندی ہے :

﴿یَا اَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا تَتَّخِذُوْا الْیَهوْدَ وَالنَّصَارَی اَوْلِیَآءَ بَعْضُهمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَّمَنْ یَّتَوَلَّهمْ مِّنْکُمْ فَإِنَّه مِنْهمْ﴾۔ ”اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو دوست مت بنانا، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اورتم میں جوکوئی ان سے دوستی کرے گاوہ انہی میں شمار ہوگا۔“ (سورة المائدة :۵۱)

اور ایک جگہ ارشاد ہے:

﴿یَآاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآءَکُمْ مِّنَ الْحَقِّ﴾ ۔”اے ایمان والو! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنالینا کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو۔“ (سورة الممتحنة : ۱)

کافروں کی عیدوں میں شرکت ان کی مشابہت کو مستلزم ہے، او ر ان کی مشابہت ان سے محبت واُلفت کی عظیم دلیل ہے، جو نہ صرف اصولِ دین کے خلاف ورزی ہے،بلکہ انسان کو خارج از اسلام قرار دیتی ہے۔آپ علیہ الصلاة و السلام کاارشاد ہے :

 ” مَنْ کَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهوَ مِنْهمْ ، وَمَنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ کَانَ شَرِیْکًا فِيْ عَمَلِه “۔ ”جوشخص کسی قوم کے اجتماع کو اپنی شرکت کے ذریعے بڑھائے وہ انہی میں سے ہے، اورجوکسی قوم کے عمل سے خوش ہو وہ اس عمل میں اُن کا برابر کاشریک ہے۔ “ (کنزالعمال : ۱۱/۹ ، رقم : ۲۴۷۳۰)

فرمانِ الٰہی ہے :

﴿لا تَجِدُ قَوْمًا یُّوٴْمِنُوْنَ بِاللّٰه وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰه وَرَسُوْلَه وَلَوْ کَانُوْآ اٰبَآءَ همْ اَوْاَبْنَآءَ همْ اَوْ اِخْوَانَهمْ اَوْ عَشِیْرَتَهمْ﴾ ۔”جواللہ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، آپ انہیں نہ پائیں گے، کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر کے مخالف ہیں، خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے کنبے والے ہی کیوں نہ ہوں۔“ (سورة المجادلة : ۲۲)

آیت کامفہوم یہ ہے کہ کو ئی مومن کسی کافر سے مودّت روا نہیں رکھ سکتااور جورکھے گا وہ مومن نہیں، درحقیقت مشابہتِ اَغیار، قلبِ انسانی میں ان کی مودّت، محبت اورمُوالات کو اس طرح جنم دیتی ہے جیسا کہ محبتِ باطنی مشابہتِ ظاہری کا ذریعہ ہے، اسی لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت اختیارکرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے:

عن ابن عمر – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” مَنْ تَشَبَّه بِقَوْمٍ فَهوَ مِنْهمْ “ ۔ ”جوکسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اُنہی میں سے ہوگا۔“ (سنن أبي داود:ص/۵۵۹)

مگرتمام عیدوں اورتہواروں میں شرکت اورہرمشابہت کایہ حکم نہیں؛اس لیے اس کو قدرے تفصیل سے تحریر کرنا بہتر معلوم ہوتاہے۔

کافر اپنی قوم اور دین ومذہب کے اعتبار سے الگ الگ ہیں؛ اس لیے ان کی عیدوں کی بھی کئی قسمیں ہیں، مثلاً:

۱-اَعیادِ دینی: وہ عیدیں جوان کے دین کی اَساس وبنیاد ہیں، یا ان کو انہوں نے اپنے دین میں ایجاد کیا۔

۲-اَعیادِ عادی ومناسبتی: وہ عیدیں جو از قبیلِ عادات ہیں اور جن کو مختلف مناسبتوں کی خاطر ایجاد کیا گیا، مثلاً :قومی عیدیں وغیرہ۔

ان کی تمام عیدوں کو ہم چار قسموں پرمنقسم کرسکتے ہیں:

قسمِ اول: وہ عیدیں جن کے ذریعے تقرب الی اللہ (اللہ کاقرب) مقصود ہوتاہے،مثلاً:

عیدِ ولادتِ مسیح علیہ السلام(Christmasday)،

عیدِ غِطاس(Epiphany)،

عیدِفصح (Good,friday/Easter)

اس طرح کی عیدوں میں مسلمان غیروں کی مشابہت دوطرح سے اختیارکرتے ہیں:

(الف)ان کے اپنے منعقد کردہ دینی اجتماعات(Anti,islamic,programs) میں شرکت کرنا،خواہ وہ اپنے کاروباری شریکوں(Business,partners) کی دل جوئی کے لیے ہو، یا کسی دنیوی مصلحت کی خاطر، خصوصاً ایسی شرکت جس کے لیے بلادِ کفار(Non muslim countries)کی طرف سفرکرناپڑے، کیوں کہ سفر کرنے والا ان کے شعائرِ دین میں شرکت کے قصد وارادے سے ہی سفر کرتاہے، یہ صورت انتہائی قبیح ہے۔

(ب)غیر مسلموں کے ان تہواروں کو مسلم ملکوں اور شہروں میں منانا، جیسا کہ آج کل مسلم ملکوں میں نئے سال (New Ear)کومنایا جانے لگا، کہ اس دن تمام کالجز(Colleges)، مدارس (Madaris)،سرکاری دفاتر (Govrnmantal,offices)اوردیگرتمام کاروبارِ زندگی کو بند کرکے چھٹی رکھی جاتی ہے ، اور ان کی عیدمیں عملاً شرکت کا اظہار کیا جاتاہے۔

مذکورہ بالا دونوں صورتیں شرعاً ناجائز وحرام ہیں۔

فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَلا تَرْکَنُوْآ اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰه مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُوْنَ﴾۔”اور ان لوگوں کی طرف مت جھکو جو ظالم ہیں (اپنے حق میں ) ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی ) آگ چھوجائے گی اور (اس وقت ) اللہ کے سواکوئی تمہارا رفیق نہ ہوگا، پھر تمہاری مدد بھی نہ کی جائے گی۔“ (سورة ہود :۱۱۳)

اسی طرح مفتی ٴاعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایاکہ مراد ہے کہ ظالموں سے دوستی نہ کرو اوران کا کہا نہ مانو،ابن جریج نے فرمایا کہ ظالموں کی طرف کسی طرح کابھی میلان نہ رکھو،ابوالعالیہ نے فرمایاکہ ان کے اعمال وافعال کوپسند نہ کرو (قرطبی) ، سدّی نے فرمایاکہ ظالموں سے مداہنت نہ کرو،یعنی ان کے برے اعمال پر سکوت یارضاکااظہار نہ کرو،عکرمہ نے فرمایا کہ ظالموں کی صحبت میں نہ بیٹھو،قاضی بیضاوی نے فرمایاکہ شکل وصورت اورفیشن اوررہن سہن کے طریقوں میں ان کا اتباع کرنا یہ سب اسی ممانعت میں داخل ہے“۔

(معارف القرآن :۶۷۳/۴، اعلام الموقعین: ۱۷۵/۳)

(فتاویٰ رشیدیہ:ص/۵۵۶، فتاویٰ محمودیہ : ۵۶۸/۱۹، امداد الفتاویٰ: ۲۶۹/۴)

قال ابن عباس : أي لا تمیلوا ، والرکون : المحبة والمیل بالقلب ، وقال أبو العالیة: لا ترضوا بأعمالهم، وقال عکرمة: لا تطیعوهم ؛ قال البیضاوي: لا تمیلوا إلیهم أدنی میل، فإن الرکون هو المیل الیسیرکالتزیي بزیهم وتعظیم ذکرهم ۔(حاشیة القونوي علی تفسیر البیضاوي :۲۲۶/۱۰ ، التفسیر المظهري : ۴۳۰/۴)

شیو جینتی ، امبیڈ کر جینتی ، گاندھی جینتی، اور دیگر جتنی جینتیاں ہیں، سب اسی حکم میں داخل ہیں، کیوں کہ اسلام، محسنِ انسانیت، وجہ خلقِ ارض وسما، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادتِ باسعادت منانے کی اجازت نہیں دیتا، چہ جائے کہ اس طرح کے لوگوں کی جینتیاں منانے کی اجازت دے،جن کا دین ومذہب، عقائد وافکار نہ صرف دینِ اسلام کے بنیادی اُصولوں کے خلاف، بلکہ ان سے متصادم ومزاحم رہے ہوں۔

(اللّٰهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه ، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه)

قسمِ دوم: وہ عیدیں جو اصلاًشعائرِ کفار (Tenets of unbeliver)تھیں، مگر بعد میں وہ عادات بن گئیں، یا انہوں نے عالمی اَعیاد (World Festivel)کا رُوپ دھار لیا، مثلاً اولمپک کھیل (Olampic Games)وغیرہ ، اس طرح کی عیدوں میں بھی شرکت دوطرح سے ہوتی ہے۔

(الف)کافرملکوں میں موجود ان کی تنظیموں (Organizes)میں حاضر ہونا، جیسا کہ بعض مسلم ملک اپنے کھلاڑیوں کو ان مختلف ورزشی کھیلوں میں شرکت کے لیے روانہ کرتے ہیں،جن کویہ تنظیمیں منعقد کرتی ہیں۔

(ب)مسلم ملکوں میں ان عیدوں کی نقل کرنا اوران تنظیموں کوقائم کرنا۔

یہ دونوں صورتیں بھی شرعاً ناجائز ہیں، کیوں کہ اولمپک کھیل (Olampic Games)یونانیوں کے یہاں ایک انتہائی اہم، اعظم، عیدِ وثنی تھی، آگے چل کر اہلِ رومان ونصاریٰ اس کے وارث قرار پائے، اورآج وہ پوری دنیا میں اس کھیل کو (جو حقیقةً عیدِ وثنی ہے) عا م کررہے ہیں، اگرچہ دورِحاضر میں یہ اولمپک کھیل(Olampic,games)ورزشی کھیلوں میں تبدیل ہوگئے، مگر ان کا عیدِ وثنی ہونا لغو نہیں ہوا؛ اس لیے کہ ان کی اصل او راسم آج بھی برقرار ہیں، اور ان کھیلوں کے پیچھے وہی عقائد وافکار کارفرماہیں،جو ابتدا میں تھے، ان میں شرکت، عیدِ وثنی میں شرکت کے مترادف ہے، جیساکہ حضرت ثابت بن الضحاک کی یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے۔

” نذر رجل علی عهد رسول اللّٰه ﷺ أن ینحر إبلا ببوانة فأتی النبي ﷺ فقال : إني نذرت أن أنحر إبلا ببوانة ، فقال النبي ﷺ : ” هل کان فیها وثن من أوثان الجاهلیة یعبد ؟ قالوا : لا ؛ قال : فهل کان فیها عید من أعیادهم ؟ قالوا : لا ؛ قال رسول اللّٰه ﷺ : أوف بنذرک ، فإنه لا وفاء لنذر في معصیة اللّٰه ، ولا فیما لا یملک ابن آدم “ ۔ أخرجه أبو داود في الأیمان والنذور “ ۔(سنن أبي داود : ص/۴۶۹)

ترجمہ: ”ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نذر مانی کہ وہ مقامِ”بوانہ“ میں ایک اونٹ ذبح کرے گا، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے مقامِ ”بوانہ“میں ایک اونٹ ذبح کرنے کی نیت مانی،(اب میرے لیے کیاحکم ہے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کیا اس مقام پر زمانہٴ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھاجس کی عبادت کی جاتی تھی؟ حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وہاں جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید منائی جاتی تھی؟ حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی نذر پوری کرو،کیوں کہ جس نذر میں اللہ کی معصیت لازم آتی ہو،اسے پورا نہیں کیا جاتا، اور نہ اس شی ٴ میں جس کا انسان مالک نہیں“۔ 

اس حدیث سے مفہوم ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل کا اعتبار فرمایا۔

قسمِ سوم: وہ ایام اورہفتے جن کو کافروں نے ایجاد کیا ،یہ تیسری قسم دو قسموں پر منقسم ہے:

قسمِ اول : ایسے ایام اورہفتے جن کی کافروں کے یہاں کوئی دینی اصل وحیثیت (Religiour Fact)تھی ، پھر وہی ایام اورہفتے ان کی ایسی عادت بن گئے کہ ان سے دنیوی مصلحتیں وابستہ ہوگئیں، مثلاً عیدِ عمال”کام گاردیوس“(Worker Day)، اصلاً یہ درختوں کے پجاریوں کی ایجاد ہے، آگے چل کر اہلِ رومان کے نزدیک عید ِوثنی بن گیا، وہا ں سے فرانس والوں کی طرف منتقل ہوا اور کنیسہ سے وابستہ رہا، یہاں تک کہ نظامِ اشتراکی نے جنم لیا،اوراس نے عیدِ عُمّال(Worker Day)کی ایسی آواز لگائی کہ آج یہ دن عالمی پیمانے پر منایا جانے لگا، افسوس!آج بہت سے مسلم ممالک بھی اس دن کو منانے لگ گئے۔

عیدِ عُمّال(Worker Day) منانا،اور اس دن کاروبارِ زندگی بند رکھنا، دووجہوں سے شرعاً ناجائز وممنوع ہے:

(۱)یہ دن اپنی نشأتِ اصلیہ(Basic Growth)کے اعتبارسے عیدِ وثنی ہے۔

(۲)خصائصِ کفار میں سے ہے ۔

اگر مسلمان اسے مناتے ہیں، تواس سے عیدِ وثنی میں شرکت لازم آتی ہے، جس سے انہیں نہ صرف منع کیا گیا، بلکہ اس پر سخت وعیدوارد ہوئی ہے۔

قسمِ ثانی: وہ ایام(Daies)اورہفتے (Weeks)جن کی کوئی دینی اصل وحیثیت (Religiour Fact) نہیں ہے، وہ دوطرح کے ہیں:

(۱)منکراتِ شرعیہ سے خالی۔

(۲)منکراتِ شرعیہ پرمشتمل۔

مثالِ اول: عالمی یومِ صحت (World health day)،

یومِ انسدادِمنشیات (Banishing day of liquor)،

یومِ تعلیم (Educational Day)،

یومِ آزادی (Independence Day)،

 یومِ جمہوریہ (Republic,Day)وغیرہ۔

ان دنوں کے منانے میں پوری انسانیت کے لیے خیر اور نفعِ عام ہے، نہ ان میں غیر اللہ کی تعظیم اورمعنیٴ عید موجود ہے، اورنہ یہ کافروں کی خصائص وعادات میں داخل ہیں، اورنہ ہی یہ اُمورِ غیرشرعیہ پر مشتمل ہیں،نیز ان میں شرکت کے بغیر مسلمانوں کے لیے کوئی چارہٴ کار بھی نہیں، کیوں کہ عدمِ ِمشارکت کی صورت میں مصالحِ مسلمین فوت ہوتی ہیں، اور کچھ قانونی مجبوریاں بھی ہیں،اس لیے ان ایام میں شرکت کی گنجائش ہوگی۔

مثالِ ثانی: یومِ عاشقاں(Velentineday)،

یومِ اساتذہ (Teacher,day)،

یومِ حقوقِ نسواں(Women day)،

یومِ گلاب (Rose,day)،

یومِ اطفال (Children,day)

یومِ دوستاں (Friendship,day)،

یومِ سیاہ (Black friday)وغیرہ۔

ان ایام میں شرکت سے مسلمانوں کی کوئی مصلحت بھی فوت نہیں ہوتی ہے،بلکہ شرکت سے مفسدہ ٴ دینی وجود میں آ تاہے ، اورفقہ کاقاعدہ ہے:

”دینی خرابی کو دور کرناتحصیلِ منافع سے اولیٰ ہے۔“ ”درأ المفاسد أولٰی من جلب المنافع “ ۔(قواعد الفقه : ص/۸۱ ، القاعدة : ۱۳۳، الأشباہ والنظائر لإبن نجیم :ص/۷۸)

ارشادِ نبوی ہے : ” إذا أمرتکم بشيء فافعلوه ما استطعتم وإذا نهیتکم عن شيء فانتهوا “ ۔ (صحیح البخاري : ۱۰۸۲/۲، کتاب الإیمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، سنن ابن ماجة :ص/۲ ، المقدمة ، باب اتباع سنة رسول اللّٰه ﷺ)

” لأن اعتناء الشرع بالمنهیات أشد من اعتنائه بالمأمورات “ ۔ (الأشباہ : ص/۷۸)

قسمِ چہارم: مسلمانوں کا اپنی عیدوں کواس طرح منانا کہ وہ کافروں کی عیدیں معلوم ہونے لگیں،یہ بھی کافروں کی مشابہت اختیارکرنے میں داخل ہے،جوشرعاً ممنوع ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عبادت وطاعت میں بھی یہودونصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا۔

مسلمانوں کی عیدیں غیروں کی عیدوں سے ممتاز ہیں،کیوں کہ وہ ایسے شعائر وخصائص پر مشتمل ہیں جو شکر ِ خداوندی،تعظیمِ الٰہی، حمدِباری،طاعتِ خالق اوراس کی نعمتوں پر اظہارِ فرحت وبشاشت پردلالت کرتی ہیں،جب کہ غیروں کی عیدیں بالکل اس کے برعکس ہیں کہ ان کی عیدوں میں با طل شعائر اور خود ساختہ خداوٴں کی تعظیم ہوتی ہے، اورلوگ اس دن اپنے آپ کو نہ صرف ناجائزوحرام کاموں میں مشغول رکھتے ہیں ، بلکہ اپنے گناہوں کے ارمان نکالنے میں تن من دھن کی بازی لگاتے ہیں ۔

خلاصہٴ کلام یہ کہ مسلمانوں کے لیے کافروں کی عیدوں اورتہواروں،اسی طرح بطورِعید منائے جانے والے دنوں (Days)میں شرکت بالکل جائز نہیں،إلاّ یہ کہ وہ کوئی قومی یا عالمی دن ہو،منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو،اور اس میں عدمِ شرکت سے امتِ مسلمہ کی مصالح فوت ہوتی ہوں، یا کوئی قانونی مجبوری ہو ،اوردل اس کے غیر شرعی ہونے پر مطمئن ہو، توضرورةً شرکت کی اجازت ہوگی، جیساکہ فقہ کاقاعدہ ہے : ” الضرورات تبیح المحظورات“ اور”ما أُبیح للضرورة یتقدر بقدرھا “۔ (الأشباہ : ۳۰۷/۱ ، ۳۰۸)

۲– کافروں کوان کے تہواروں کے موقع پرمبارک بادی دینا،یاکوئی ہدیہ پیش کرنابالاتفاق حرام ہے، مثلاً: ہولی،دیوالی،دسہرہ،گڈی پاڑوہ وغیرہ پریہ کہنا،ہولی مبارک،دیوالی مبارک،دسہرہ مبارک وغیرہ، کیوں کہ مبارک بادی دیناگویا اس بات کااقرار ہے کہ تم جس دین پر قائم ہو وہ صحیح ہے ؛ اس لیے کہ مبارک بادی صحیح کام پر دی جاتی ہے، نہ کہ غلط کام پر(الاّ یہ کہ صحیح اورغلط کی تمیز ہی ختم ہوجائے تو اوربات ہے)نیز یہ مبارک بادی اس بات کااظہار ہے کہ ہم تمہارے لیے تمہارے کفرکو پسند کرتے ہیں،جب کہ ایک مسلمان کے لیے شعائرِ کفر کوپسند کرنا اوران پر کافروں کو مبارک بادی دینا، دونوں باتیں شرعاً حرام ہیں،کیوں کہ کفر اللہ کو ناپسندہے، اورجو چیز اللہ کو نا پسند ہو،وہ مسلمانوں کی لیے پسندیدہ کیسے ہوسکتی ہے!بلکہ مسلمانوں کی پسند تووہ ہوتی ہے جو اللہ کی پسند ہے،جیسا کہ اس کاارشاد ہے:

 ﴿اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰه غَنِيٌّ عَنْکُمْ وَلا یَرْضٰی لِعِبَادِه الْکُفْرِ وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَه لَکُمْ﴾۔”اگرتم کفر کروگے تواللہ تمہارا حاجت مند نہیں او ر نہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند کرتاہے ، اور اگرتم شکر کروگے تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتاہے ۔“ (سورة الزمر : ۷)

لیکن اگر کسی علاقے اورخطے میں مسلمان اقلیت میں ہوں، اور اس طرح کی مبارک بادیوں کے کلمات نہ کہنے سے غیروں کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے بغض وعداوت اورنفرت وانتقام کی آگ بھڑ ک سکتی ہو، مسلمانوں کواپنی جان ومال کاخطرہ لاحق ہو، تواِن حالات میں ان کے لیے کلماتِ مبارک بادی کہنا ضرورةًجائز ہوگا۔

ارشادِ خداوندی ہے:

﴿اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلا تَخْشَوْهمْ وَاخْشَوْنِ  اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلامَ دِیْنًا فَمَنْ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لإِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰه غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ ۔”آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہوگئے سو تم ان سے نہ ڈرو،اورمجھی سے ڈرو،آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اورتم پر اپنی نعمت پوری کردی ،اورتمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین کے پسند کرلیا، ہاں! جوکوئی بھوک کی شدت سے بے قرار ہوجائے،گناہ کی طرف رغبت کیے بغیر ، سواللہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحمت والاہے۔“(سورة المائدة :۳) فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد:محمدجعفرملی رحمانی۔۱۹/رجب المرجب ۱۴۲۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔