مسئلہ:
آج کل سالِ نو کے آغاز میں کیلنڈر اور ڈائریاں تقسیم کرنے کا رواج ہے، اصلاً یہ کسی کمپنی یا ادارہ کا اشتہار ہوتی ہیں ، اگر یہ کیلنڈر اور ڈائریاں ایسی کمپنی کی ہیں جن کا کاروبار حرام ہے ، مثلاً سودی بینک، تو ان کو اپنی آفسوں میں رکھنا اور استعمال کرنا حرام میں تعاون کے مترادف ہے، اس سے بچنا لازم ہے ، اور اگر ان کا کاروبار جائز اور مباح ہے،مثلاً بکڈپو، جوتا یا کپڑے کی کمپنی ، تعمیرات میں لگنے والی اشیاء کی کمپنی ، یا ملبوسات ومطعومات کی کمپنی، تو ان کے رکھنے اور استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في’’ القرآن الکریم ‘‘ : {وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان} ۔(سورة المائدة:۲)
ما في ’’ أحکام القرآن للجصاص ‘‘ : قوله تعالی : {وتعاونواعلی البر والتقوی} یقتضي ظاهره إیجاب التعاون علی کل ما کان طاعة لله تعالی لأن البر هو طاعات الله ، وقوله تعالی : {ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان} نهي عن معاونة غیرنا علی معاصي الله تعالی ۔ (۳۸۱/۲)
ما في ’’ جمهـرة القـــواعد الفقهیة ‘‘ : بقاعد فقهیة : ’’ الإعانة علی المحظور محظور ‘‘۔(۶۴۴/۲)
ما في ’’ الأشباه والنظائر للسیوطي ‘‘ : ’’ الأصل في الأشیاء الإباحة حتی یدل الدلیل علی التحریم ‘‘ ۔ (۱۳۱/۱)
