مخلوق کی فرمانبرداری میں خالق کی نافرمانی

مسئلہ:

بعض والدین اپنے بچوں پر اطاعت وفرمانبرداری کے لزوم ووُجوب کی فہمائش کرتے وقت ، آپ ﷺ کی اِس حدیث کو بیان کرتے ہیں، جس میں آپ ﷺ نے حضرت معاذ کو دس وصیتیں فرمائی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ؛ والدین کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے، اگرچہ وہ یہ حکم دیں کہ بیوی کو چھوڑدے ، یا سارا مال خرچ کردے، اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ آپ ﷺ کی حضرت معاذ کو یہ وصیتیں حدیث صحیح سے ثابت ہے، اور والدین کی اطاعت واقعةً لازم ہے، اور ان کے حکم کی خاطر بیوی اور سارے مال کو چھوڑدینے کا حکم بھی ہے، لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب کہ ابتلاء کا قوی اندیشہ نہ ہو، مثلاً بیوی چھوڑ دینے سے زنا میں مبتلا ہوجائے، اور سارا مال خرچ کردینے سے چوری وغیرہ میں مبتلا ہوجائے، تو پھر ایسی صورت میں بیوی کو چھوڑدینے اور پورے مال کو خرچ کردینے میں ماں باپ کی اطاعت وفرمانبرداری نہیں کی جائے گی، کیوں کہ ماں باپ کا یہ حکم معصیتِ خداوندی کا سبب ہے، جب کہ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ”لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق“ یعنی مخلوق کی ایسی فرمانبرداری جس سے خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو، یا مخلوق کی فرمانبرداری خالق کی نافرمانی کا سبب بنتی ہو، جائز ودرست نہیں، نیز آپ ﷺ کی یہ وصیت کہ؛ ماں باپ اگر بیوی کو چھوڑنے اور پورے مال کو خرچ کرنے کا حکم دیں، تب بھی اُن کی اطاعت لازم ہے، آپ کا یہ حکم بطورِ مبالغہ یعنی ؛ ان کی اطاعت کی اہمیت کو بتلانا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جن والدین میں اپنے بچوں کے لیے کامل جذبہٴ شفقت ہوگا، وہ کبھی اپنے بچوں کو ایسا حکم نہیں دیں گے، اور اگر ایسا حکم دیں، تو اولاد پر اس حکم کی تعمیل لازم نہیں، بلکہ جائز ہے، لہٰذا ماں باپ کے اس حکم کے نہ ماننے پر اولاد گنہگار نہیں ہوگی۔

الحجة علی ماقلنا :

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن معاذ رضي الله عنه قال: أوصاني رسول الله ﷺ بعشر کلمات، قال: ” لا تشرک بالله شیئًا وإن قُتلتَ وحُرّقتَ، ولا تُعقِّن والدیک وإن أمرک أن تخرج من أهلک ومالک، ولا تترکنّ صلوة مکتوبة متعمداً، فإن من ترک صلوة مکتوبة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله “ ۔ الحدیث ۔ رواه أحمد ۔

(ص:۱۸، کتاب الإیمان، باب الکبائر وعلامات النفاق، الفصل الثالث، رقم الحدیث:۶۱، مسند أحمد:۱۸۸/۱۶، حدیث معاذ بن جبل، رقم:۲۱۹۷۴)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (ولا تعقّن والدیک) أي لا تخالفهما أو أحدهما فیما لم یکن معصیة إذ لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق (وإن أمراک أن تخرج من أهلک) أي امرأتک أو جاریتک أو عبدک بالطلاق أو البیع أو العتق أو غیرها (ومالک) بالتصرف في مرضاتهما، قال ابن حجر: شرط للمبالغة باعتبار الأکمل أیضًا، أي لا تخالف واحدا منهما وإن غلا في شيء أمرک به، وإن کان فراق زوجة أو هبة مال، أما باعتبار أصل الجواز فلا یلزمه طلاق زوجة امرأة بفراقها وإن تأذیا ببقائها ایذاء شدیدا لأنه یحصل له ضرر بها فلا یکلفه لأجلهما إذ من شأن شفقتهما أنهما لو تحققا ذلک لم یأمراه به، فالزامهما له به مع ذلک حمق منهما ولا یلتفت إلیه وکذلک إخراج ماله۔

(۲۲۰/۱، کتاب الإیمان، باب الکبائر وعلامات النفاق، الفصل الثالث)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله ﷺ: ”لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق “۔

(ص:۳۲۱، کتاب الإمارة والقضاء، الفصل الثاني، رقم الحدیث:۳۶۹۶، کشف الخفاء ومزیل الإلباس للعجلوني:۳۳۳/۲، حرف اللام ألف، رقم:۳۰۷۴)

(فتاویٰ محمودیہ :۳۵/۱۸)

اوپر تک سکرول کریں۔