مدارس ومکاتب کے چھوٹے بچوں کو وضو کا مکلف بنانا

مسئلہ:

مدارس اور مکاتب میں بہت سے چھوٹے اور نابالغ بچے ناظرہ قرآن کریم اور حفظِ کلام پاک کے درجات میں داخل ہوتے ہیں، ابھی وہ شریعت کے مکلف نہیں ہیں، نیز انہیں قرآن کریم باوضو چھونے کا مکلف وپابند بنانے میں ان کے لیے بڑا حرج ہے، اور بلوغت تک تاخیر میں تقلیلِ حفظ بھی لازم آتا ہے، اس لیے ان کے لیے بلا وضو قرآن کریم چھونے کی گنجائش ہے، مگر ان کو طہارت کی ہدایت کی جائے اور اس کا عادی بنایا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ولا یکره مس صبي لمصحف ولوح) ۔ الدر المختار۔ قال الشامي تحت قوله: (ولا یکره مس صبي) فیه أن الصبي غیر مکلف، والظاهر أن المراد لا یکره لولیه أن یترکه یمس۔ (للضرورة) لأن في تکلیف الصبیان وأمرهم بالوضوء حرجاً بهم، وفي تاخیره إلی البلوغ تقلیل حفظ القرآن۔

(۳۱۶/۱۔۳۱۷، کتاب الطهارة، مطلب یطلق الدعاء علی ما یشمل الثناء)

ما في ” مراقي الفلاح “ : ویحرم مسّها أي الآیة لقوله تعالی: ﴿لا یمسّه إلا المطهرون﴾۔۔۔۔۔ وأمر الصبي بحمله ورفعه له لضرورة التعلیم۔

(ص:۵۸، کتاب الطهارة، باب الحیض والنفاس)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا بأس بدفع المصحف إلی الصبیان وإن کانوا محدثین، وهو الصحیح، هکذا في السراج الوهاج۔

(۳۹/۱، کتاب الطهارة، الفصل الرابع في أحکام الحیض والنفاس)

ما في ” حلبي کبیر“ : وذکر في الجامع الصغیر: لا بأس بدفع المصحف واللوح إلی الصبیان، لأنهم لا یخاطبون بالطهارة وإن أمروا بها تخلقا واعتیاداً۔ قال في الهدایة: لأن في المنع تضییع حفظ القرآن، وفي الأمر بالتطهیر حرج بهم، هذا هو الصحیح۔ (ص:۵۹، مطلب في أصح القولین)

(فتاویٰ محمودیه: ۵۲۲/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔