مسئلہ:
مدرسة البنات یعنی لڑکیوں کے اقامتی اداروں کے قیام کے متعلق ہمارے علماء کے مابین اختلافِ رائے پایا جاتا ہے، بعض اسے جائز اور بعض ناجائز کہتے ہیں، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ علم دین کا سیکھنا شرعاً مردو عورت دونوں پر لازم ہے۔(۱)
اب اگر کسی عورت کیلئے گھریلو زندگی کے دوران اور گھر میں رہتے ہوئے اپنے محارم میں سے کسی سے علم دین حاصل کرنے کی ترتیب بن سکتی ہو، تو اس کیلئے سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ ان سے عبادات ، اخلاقیات، معاملات اور معاشرت کے ضروری مسائل سیکھ لے، اور اس کے موافق عملی زندگی گزارنے کی فکر کرے، لیکن اگر یہ ترتیب نہ بن سکتی ہو اور وہ قریب کے کسی معتمد مدرسة البنات میں کسی محرم کے ساتھ آجاسکتی ہو، یا گھریلو مجبوریوں کے تحت ایسے مدرسہ میں قیام کرنا پڑتا ہو، اور اس آمدو رفت اور مدرسہ کی رہائش کے دوران کسی قسم کے فتنہ اور فساد کا اندیشہ نہ ہو، اور نہ بے پردگی ہوتی ہو، بلکہ شرعی پردہ میں رہتے ہوئے اپنے محارم کی اجازت کیساتھ علم دین حاصل کرے تو بلا شبہ اس کی اجازت ہونی چاہیے۔(۲)
جو علماء کرام لڑکیوں کے اقامتی اداروں کے قیام کو، لڑکیوں کی طرف سے آمد ورفت کے سلسلے میں ہونے والی بے احتیاطی، اور دورانِ قیام، انتظامیہ کی طرف سے ان کے اخلاق وعادات کی صیحح طور پر نگرانی نہ کرنے کی بناء پر ناجائز کہتے ہیں، اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو غالباً انہیں بھی جواز کے قائل ہونے میں کوئی تأمل نہیں ہوگا، کیوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے: ”حکم کا مدار علت پر ہوتا ہے، علت کے ختم ہونے پر حکم بھی ختم ہوجاتا ہے “۔(۳)
البتہ انتہائی دور دراز کی لڑکیوں کو اقامتی اداروں میں رکھنا بڑے مسائل پیدا کرتا ہے، اس لئے اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” مشکوة المصاببیح “ : عن أنسؓ قال: قال رسول الله ﷺ: ” طلب العلم فریضة علی کل مسلم “ ۔(ص:۳۴)
ما فی” الدر المختار مع الشامیة “ : واعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین، وهو بقدر ما یحتاج لدینه قال: من فرائض الإسلام تعلم ما یحتاج إلیه العبد فی إقامة دینه، وإخلاص عمله لله تعالی ومعاشرة عباده، وفرض علی کل مکلف ومکلفة بعد تعلمه علم الدین والهدایة، تعلم علم الوضوء والغسل والصلوة والصوم۔
(۱۲۱/۱، قبیل مطلب فی فرض الکفایة وفرض العین)
ما فی ” الفتاوی الحدیثیة “ : واعلم أن النهی عن تعلیم النساء للکتابة لا ینافی طلب تعلمهن القرآن والعلوم والآداب، لأن فی هذه مصالح عامة من غیر خشیة مفاسد تتولد علیها بخلاف الکتابة، فإنه وإن کان فیها مصالح إلا أن فیها خشیة مفسدة ودرء المفاسد مقدم علی جلب المصالح۔ (ص:۱۱۹، مطلب یکره تعلیم النساء للکتابة)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها النبی قل لأزواجک وبناتک ونساء الموٴمنین یدنین علیهن من جلابیبهن ﴾۔ (سورة الأحزاب:۵۹)
ما فی” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبوبکر: هذه الآیة دلالة علی أن المرأة الشابة مامورة بستر وجهها عن الأجنبیین وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا یطمع أهل الریب فیهن۔(۴۸۶/۳)
(۳) ما فی ” القواعد الفقهیة “ : الأصل أن تزول الأحکام بزوال عللها۔(ص: ۱۷۶، القواعد الفقهیة علی أحمد الندوی: ص۱۷۰)
(۴) ما فی” القواعد الکلیة والضوابط الفقهیة “ : درء المفاسد أولی من جلب المصالح۔ (ص: ۱۸۲)
(فتاوی محمودیه: ۳۸۰/۳)
