مدرسے کے ملازم کا سرکار ی بس کے”پاس کارڈ“ (Pass Card) سے فائدہ اُٹھانا

(فتویٰ نمبر: ۷۰-رج:۱)

سوال:

سرکار نے یہ اسکیم(Scheme) نکالی ہے کہ395/ روپے میں بس کا پاس کارڈ (Pass Card)بنواوٴ، اور چار دن میں مہاراشٹر میں جہاں جانا ہو جاکر آجاوٴ، اب اگر یہ پاس کارڈ مدرسے کے کام سے جانے والا خادم بنوائے،اور اس کارڈ پر سفر کرے، اور سفر خرچ کل 600/ روپے ہیں، جس میں 205/ روپے کی بچت ہوتی ہے، لیکن خادم، مدرسے کو صرف 600/ روپے کاحساب دیتا ہے، جب کہ سفر خرچ اس کا ۳۹۵/ والے کارڈ پر ہی ہوا ہے، اور کبھی خادم کارڈ بنواتاہے مگر بس کا سفر اوررنگ آباد تک ہوتاہے، پھر ٹرین کا سفر جس میں کرایہ لینا پڑتاہے، جس سے وہ کارڈ کی رقم وصول نہیں ہوپاتی، بلکہ ٹرین(Train) کے سفر میں مزید 300/روپے خرچ ہوجاتے ہیں، اس طرح کل 695/روپے کا ٹکٹ(Ticket (بنا، مگر سفر کے حساب سے خرچ صرف 500 /روپے کا ہوا، تو کیا وہ ایک سو پچانوے(195) روپے مدرسے کے حساب میں لگاسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

مدرسے کا خادم جو اجیرِخاص ہے، جب اہلِ مدرسہ اسے اپنے کسی کام سے کہیں بھیجیں، تو اس کی حیثیت نائب کی ہوگی، اور مصارفِ سفر، مدرسے کے ذمہ لازم ہوں گے، جن کی تفصیلات وجزئیات لکھ کر دینا خادم پر ضروری ہے، 395/ کا پاس (Pass) خریدنے پر جو 205/ کی بچت ہوئی وہ مدرسے کی بچت شمار ہوگی، اس کا مدرسے میں واپس کرنا واجب ہے، اسی طرح جن مقامات پر یہ کارڈ(Card) مفید ثابت نہیں ہوسکا،اور وہاں کسی اور سواری سے جانا پڑا تو وہ مصارف بھی مدرسے کے ذمہ لازم اورواجب الادا ہیں، نہ کہ خادم پر، کیوں کہ نائب کا عمل اصل کی طرف منسوب ہوتا ہے، یعنی اس کے جس عمل سے فائدہ ہوگا وہ اصل کا فائدہ شمار ہوگا، اور جس عمل سے نقصان ہو بشرطے کہ اس میں تعدی وزیادتی نہ پائی جائے، وہ بھی اصل ہی کا گردانا جائے گا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” نتائج الأفکار في کشف الرموز والأسرار تکملة فتح القدیر “ : ولا ضمان علی الأجیر الخاص فیما تلف في یده ، ولا ما تلف من عمله ، أما الأول فلأن العین أمانة في یده ؛ لأنه قبض بإذنه نوع استحسان عندهما لصیانة أموال الناس، والأجیر الواحد لا یتقبل الأعمال ، فتکون السلامة غالبة فیوٴخذ فیه بالقیاس ، وأما الثاني فلأن المنافع متی صارت مملوکة للمستأجر ، فإذا أمره بالتصرف في ملکه صح، ویصیر نائبًا منابه، فیصیر فعله منقولا إلیه کأنه فعل بنفسه ، فلهذا لا یضمنه۔

(۱۳۱/۹، کتاب الإجارات، باب ضمان الأجیر، ط: بیروت ، تبیین الحقائق : ۱۴۵/۶ ، کتاب الإجارة، باب ضمان الأجیر ، ط : بیروت ، الدر المختار مع الشامیة : ۹۴/۹۹۷ ، کتاب الإجارة ، باب ضمان الأجیر ، بدائع الصنائع : ۵۵/۶ ، ۵۶ ، کتاب الإجارة)

(الفقه الإسلامي وأدلته : ۳۸۴۷/۵ ، ط : رشیدیه کوئٹه) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۲۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔