مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ موت کی وجہ سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، اس لیے شوہر موت کے بعد نہ اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ سکتا ہے، اور نہ اس کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے، یہ دونوں باتیں صحیح نہیں ہیں، کیوں کہ فقہاء کرام نے شوہر کو اپنی بیوی کی موت کے بعد اس کا چہرہ دیکھنے ،اور اس کے جنازے کو کندھا دینے کی اجازت دی ہے، نیز عقل بھی اس کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ دونوں چیزیں جائز ہوں، اس لیے کہ انسان جس رفیقہٴ حیات کے ساتھ اپنی عمر کی ایک لمبی مدت اور اس میں پیش آنے والے خوشی وغمی کے لمحات کو گذارتا ہے، اُسے اسکے آخری دیدار اور اس کی آخری منزل تک پہنچانے کے لیے کندھا دینے سے محروم کرنا معقول نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : ویمنع زوجها من غسلها ومسّها لا من النظر إلیها علی الأصح ۔ وقالت الأئمة الثلاثة : یجوز، لأن علیاً غسل فاطمة رضي الله عنهما، قلنا: هذا محمول علی بقاء الزوجیة لقوله علیه الصلاة والسلام: ” کل سبب ونسب ینقطع بالموت إلا سببي ونسبي، مع أن بعض الصحابة أنکر علیه ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: قوله: (لا من النظر إلیها علی الأصح) عزاه في المنح إلی القنیة ۔۔۔۔۔ ولعل وجهه أن النظر أخف من المسّ فجاز لشبهة الاختلاف۔ والله أعلم۔(۹۰/۳، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة)
ما في ” البحر الرائق “ : وضع مقدمها علی یمینه، ثم مؤخرها، ثم مقدمها علی یسارک مؤخرها۔ قال ابن نجیم: ینبغي أن یحمل من کل جانب عشر خطوات للحدیث: ” من حمل جنازة أربعین خطوة کفرت أربعین کبیرة “۔ (۳۳۸/۲، باب صلاة الجنائز)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : ومن أراد کمال السنة في حمل الجنازة، ینبغي له أن یحملها من الجوانب الأربع ۔۔۔۔ وینبغي أن یحمل من کل جانب عشر خطوات، جاء في الحدیث: ” من حمل جنازة أربعین خطوة کفرت له أربعون کبیرة “۔ (۸۸/۲، باب حمل الجنازة)
(فتاویٰ دار العلوم:۲۴۶/۵۔۲۸۲)
