مرض سے صحتیابی کے بعد پھولوں کا ہار پہنانا

مسئلہ:

بعض اوقات مریض کے بیماری سے شفا پانے پر دوست واحباب اُس کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالتے ہیں ، دوستوں کا یہ عمل اظہارِ مسرت اور شکر نعمت کے لیے ہوتا ہے، اس لیے ایسا کرنا جائز ہے(۱)، مگر اس میں غلو کرنا جائز نہیں ہے، نیز اس قسم کی چیزیں ابتداء ً صحیح نیت سے انفرادی طورپر شروع ہوتی ہیں، پھر آگے چل کر باقاعدہ رسم کی شکل اختیار کرجاتی ہیں، اور اُن کا التزام ہونے لگتا ہے، جس میں کئی قباحتیں اور ناجائز اُمور بھی شروع ہوجاتے ہیں، اِس لیے ان کے سدّ باب کے لیے ایسے اُمور سے احتراز ضروری ہے(۲)، شکرِ نعمت کی حقیقت یہ ہے کہ معاصی سے توبہ کی جائے اور منعِمِ حقیقی کی طرف رجوع کیا جائے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأما بنعمةِ ربّک فَحَدِّث﴾۔ (سورة الضحی: ۱۱)

ما في ” تفسیر المظهري “ : والتحدّث بنعمة شکر۔ (۲۶۵/۱۰)

ما في ” مجمع الزوائد “ : عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: ” تَهادوْا تَحابّوْا، وهاجروا تورِّثوا أولادکم مجداً، وأقیلوا الکِرَام عثراتهم “۔

(۱۸۵/۴، رقم الحدیث:۶۷۱۶، المعجم الأوسط للطبراني:۲۵۴/۵، رقم الحدیث:۷۲۴۰، کنز العمال:۴۴/۶، رقم الحدیث:۱۵۰۵۱، شعب الإیمان للبیهقي:۴۷۹/۶، رقم الحدیث:۸۹۷۶، نصب الرایة للزیلعي:۲۹۷/۴، کتاب الهبة، الأدب المفرد للبخاري: ص/۲۰۵، باب قبول الهدیة)

ما في ” صحیح البخاري “ : عن عائشة قالت: ” کان رسول الله ﷺ یقبَل الهدیة ویُثیبُ علیها “۔

(۳۵۲/۱، کتاب الهبة، باب المکافأة في الهبة، السنن لأبي داود: ص/۴۹۸، کتاب البیوع، باب في قبول الهدایا، السنن للترمذي:۱۶/۲، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في قبول الهدیة والمکافأة علیها)

ما في ” فتاوی ابن حجر “:حول ما اعتاده الناس تقدیم هدیة للمریض عند عیادته قال: إنه إحسان للمعارف وللأقارب، وهو سنة۔ (۳۱/۲، علی شبکة الانترنیت)

(۲) ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : ان الوسیلة أو الذریعة تکون محرَّمة إذا کان المقصد محرَّمًا، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجبًا۔ (ص:۴۶)

(۳) ما في ” تفسیر المظهري “ : مسئلة : یجب الشکر علی کل نعمة، والشکر صرف النعمة في رضاء المنعِم، فشکر نعمة المال صرفها بالإخلاص في سبیل الحق، وشکر نعمة البدن أداء الواجب، والاجتناب عن المعاصي ، وشکر نعمة العلم والعرفان التعلیم والإرشاد۔(۲۶۵/۱۰)

(احسن الفتاویٰ:۱۵۳/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔