مرغی خانہ یا مچھلی تالاب کی زمین پر زکوة

مسئلہ:

اگر کسی شخص نے مرغی یا مچھلی کا فارم قائم کیا، تو مرغی خانہ اور مچھلی کے تالاب کی زمین اور متعلقہ سازوسامان پر زکوٰة فرض نہیں ہے، اسی طرح اگر مرغیوں اور چوزوں یا مچھلیوں اور ان کے بچوں کو خریدتے وقت ان کو بیچنے کی نیت نہ ہو، بلکہ ان کے انڈوں یا ان کے بچوں کو فروخت کرنے کی نیت ہو، تو ان پر بھی زکوٰة واجب نہیں ہے، کیوں کہ اس صورت میں ان مرغیوں اور مچھلیوں کو باقی رکھتے ہوئے ان سے منفعت حاصل کرنا مقصود ہے(۱) ،اگر ان سے حاصل منفعت کی مالیت بقدر نصاب ہو تو اس پر زکوٰة واجب ہوگی، البتہ اگر مرغیوں اور چوزوں، مچھلیوں اور ان کے بچوں کو خریدتے وقت ان ہی کو فروخت کرنے کی نیت ہو تو یہ مالِ تجارت میں داخل ہوں گے، اور ان کی مالیت پر زکوٰة فرض ہوگی ۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی” فتح القدیر“: ولیس فی دور السکنی ۔۔۔۔۔ وسلاح الاستعمال زکوٰة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وعلی هذا کتب العلم لأهلها وآلات المحترفین ، قوله: (آلات المحترفین) یرید بها ما ینتفع بعینه ولا یبقی أثره فی المعمول کالصابون والحرض وغیرهما کالقدور وقواریر العطار ونحوها لکون الآجر حینئذ مقابلاً بالمنفعة فلا یعد من مال التجارة ۔

(۱۷۳/۲، کتاب الزکوٰة)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال ابن عابدین تحت قوله : (وفارغ عن حاجته الأصلیة لأن المشغول بها کالمعدوم) وفسره ابن ملک المشغول بالحاجة الأصلیة، وهی ما یدفع الهلاک عن الإنسان کالنفقة ودور السکنی وآلات الحرب، أو تقدیراً کالدین وآلات الحرفة، وظاهر قوله أن المراد من قوله: (وفارغ عن حاجته الأصلیة) ما کان نصاباً من النقدین أو أحدهما فارغاً عن الصرف إلی تلک الحوائج۔ (۱۶۶/۳، مطلب فی زکوٰة ثمن المبیع وفاء)

ما فی ” فتاوی قاضی خان علی هامش الهندیة “ : ولو اشتری قدوراً من صفر یمسکها أو یوٴاجرها لا تجب فیها الزکوٰة کما لا تجب فی بیوت الغلة، وکذا لو اشتری جوالق بعشر آلاف درهم لیوٴاجر من الناس فحال علیه الحول لا زکوٰة فیها لأنه اشتراها للغلة۔

(۱۲۰/۱، فصل فی التجارة، الفتاوی الهندیة:۱۷۲/۱، کتاب الزکوٰة، الباب الأول، الهدایة: ۱۸۶/۱، البحر الرائق:۳۶۱/۲)

(۲) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن سمرة بن جندب قال :” أما بعد؛ فإن رسول الله ﷺ کان یأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعدّ للبیع “۔

(ص:۲۱۸، کتاب الزکوٰة، باب العروض إذا کانت للتجارة هل فیها زکوٰة؟ رقم الحدیث:۱۵۶۲)

ما فی” البحر الرائق “: قوله: (وفی عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) أی یجب ربع العشر فی عروض التجارة إذا بلغت نصاباً من أحدهما۔(۳۹۸/۲)

 (فتاوی محمودیه:۴۲۷/۹، محمود الفتاوی :۸۷/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔