(فتویٰ نمبر: ۸۲)
سوال:
۱-مرنے کے بعد مردے کو لٹا نے کی کیا حیثیت ہونی چاہیے ؟
۲-مردے کو کس سمت میں لٹاکر غسل دینا چاہیے؟
۳-قبرستان لے جاتے وقت مردے کے پیر کس طرف ہونا چاہیے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-انتقال سے جب پہلے موت کے آثار شروع ہو جائیں، تو اس وقت اس کا سر شمال کی طرف اور پیر جنوب کی طرف اور رُخ قبلہ کی طرف کردیا جائے، یہی افضل اور سنت طریقہ ہے۔(۱)
۲-غسل کے وقت میت کو شمالاً جنوباًلٹایا جائے، جس طرح قبر میں لٹایا جاتا ہے، اگر اس میں سہولت نہ ہو اور دوسری طرح لٹانے میں سہولت ہو، تو اسی طرح لٹایا جائے، اور اگر غسل کے وقت قبلہ کی طرف پاوٴں کرکے سر اُونچا کردیا جائے تاکہ منہ قبلہ کی طرف ہو تو یہ بھی درست ہے۔(۲)
۳-قبرستان لے جاتے وقت بس اتنا لحاظ رکھیں کہ میت کا سر آگے کی جانب ہو۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” مراقي الفلاح شرح نور الإیضاح “ : ویسن توجیه المحتضر، أي من قرب من الموت علی یمینه؛ لأنه السنة، وجاز الاستلقاء علی ظهره؛ لأنه أیسر لمعالجته، ولکن یرفع رأسه قلیلا لیصیر وجهه إلی القبلة دون السماء ۔ (ص/۵۵۸ ، با ب أحکام الجنائز)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ویوضع کما مات کما تیسر) في الأصح (علی سریر مجمر وترًا )۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (في الأصح) وقیل : یوضع إلی القبلة طولا، وقیل عرضًا، کما في قبره۔(۸۴/۳، ۸۵، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : یوجه المحتضر ۔۔۔۔۔ القبلة علی یمینه هو السنة (وجاز الاستلقاء) علی ظهره وقدماه إلیها، وهو المعتاد في زماننا، ولکن یرفع رأسه قلیلا لیتوجه إلی القبلة ۔(۷۷/۳، کتاب الجنائز، باب صلاة الجنازة)
ما في ” حلبي کبیر “ : یوضع علی التخت طولا إلی القبلة کما في صلاة المریض بالإیماء ۔(ص/۵۷۷، فصل في الجنائز)
(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وفي حالة المشي بالجنازة یقدم الرأس ۔(۱/ ۱۶۲ ،کتاب الصلاة،الفصل الرابع في حمل الجنازة،الباب الحادي والعشرون في الجنائز) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۵/۲۵ھ
