مسئلہٴ مذکورہ(جہری اور سری کی حد) کی وضاحت

قرأت کے معنی ہیں پڑھنا ،اور قرأت کی دوقسمیں ہیں: (۱)جہری (۲)سرّی ۔

قرأت جہری :اتنے بلند آواز سے پڑھنا کہ دوسرا شخص سن سکے ۔

قرأت سرّی :آہستہ پڑھنا ،اس کا اطلاق کس کیفیت پر ہوگا، اس سلسلے میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے ۔

(۱) قولِ اول :علامہ فقیہ ابوجعفر ہندوانی ،علامہ فضلی اور امام شافعی رحمہم اللہ کا ہے، وہ فرماتے ہیں: سرکی حد یہ ہے کہ آدمی ایسی آواز میں قرأت کرے کہ وہ خود اسے سن سکے ۔

(۲) قولِ ثانی : بِشرمُریسی اور امام احمد رحمہمااللہ کا ہے ،وہ فرماتے ہیں :سر کی حد یہ ہے کہ ایسی آواز میں قرأت کرے ،کہ اگر کوئی شخص اپنا کان اس کے منہ سے لگائے تووہ سن سکے ، یعنی منہ سے آواز کا نکلنا کافی ہے، خواہ کان تک نہ پہنچ پائے ۔

(۳) قولِ ثالث: امام کرخی اورابوبکر بلخی رحمہما اللہ کا ہے ،وہ فرماتے ہیں :سر کی حد یہ ہے کہ حروف صحیح ہو جائے اور بن جائے ،نہ خود سنے اور نہ کوئی دوسرا کان لگائے تو وہ سن سکے ۔

اکثر مشائخ نے قولِ اول کو اختیار کیا ہے، یعنی اس قدر آواز سے قرأت کرے کہ خود سن سکے ،اوریہی قول مفتیٰ بہ ہے ،کیوں کہ محض زبان کی حرکت بغیرآوازکے قرأت کے حکم میں نہیں ہے اورنہ اس کو قرأت کہا جاسکتاہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الشامیة “ : (و)أدنی (المخافتة إسماع نفسه) ومن بقربه “ ۔ ” الدر المختار “ ۔ قوله : (وأدنی الجهر إسماع غیره الخ) اعلم أنهم اختلفوا في حد وجود القراء ة علی ثلا ثة أقوال : فشرط الهندواني والفضلي لوجودها : خروج صوتٍ یصل إلی أذنه ، وبه قال الشافعي۔ وشرط بشر المریسی وأحمد : خروج الصوت من الفم وإن لم یصل إلی أذنه ، لکن بشرط کونه مسموعا في الجملة ، حتی لو أدنی أحد صماخه إلی فیه یسمع۔ ولم یشترط الکرخي وأبو بکرالبلخي السماع ، واکتفیا بتصحیح الحروف ، واختار شیخ الإسلام وقاضی خان وصاحب المحیط والحلواني قول الهند واني ، کذا فی معراج الدرایه ۔ ونقل فی المجتبیٰ عن الهندواني أنه لا یجزیه ما لم تسمع أذناه ومن بقربه ، وهذا لا یخالف ما مر عن الهندواني ، لأن ما کان مسموعا له یکون مسموعا لمن فی قربه کما في الحلیة والبحر ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأن ما قاله الهندواني أصح وأرجح لاعتماد أکثر علمائنا علیه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وهذا معنیٰ قوله : أدنیٰ المخافتة إسماع نفسه ۔

(۲۵۲/۲ ، ۲۵۳ ، کتاب الصلا ة ، باب صفة الصلا ة ، مطلب فی الکلام علی الجهر والمخافتة ، الهدایة : ۹۸/۱ ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، فصل فی القراء ة ، حلبي کبیر ” غنیة المستملی “ :ص/۲۷۵ ، سنن الصلا ة ، السعایة فی کشف ما فی شرح الوقایة : ۲۷۰/۲ ، حد الجهر والمخافتة ، تبیین الحقائق : ۳۲۸/۱ ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، فصل وإذا أراد الدخول کبر)

اوپر تک سکرول کریں۔