مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہٴ سہو

مسئلہ:

مسبوق جو اولِ صلوٰة یعنی نماز کے شروع میں امام کے ساتھ شریک نہیں تھا، آخر نماز میں امام کے ساتھ شریک ہوا، اور امام نے کسی واجب کے ترک پر سجدہٴ سہو کیا تو مسبوق بھی امام کے ساتھ سجدہٴ سہو کرے گا، اور امام کے سلام کے بعد اپنی چھوٹی ہوئی رکعتوں کی قضاء کرے گا، اوراگر مسبوق کو اپنی فوت شدہ رکعتوں کی ادائیگی کے دوران سہو ہو جائے تو اس کو دوبارہ سجدہٴ سہو کرنا لازم ہوگا، پہلا سجدہٴ سہو کافی نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : والمسبوق الذی فاته أول الصلوٰة مع الإمام، وأدرک معه آخرها، یسجد للسهو مع إمامه قبل أن یقوم لقضاء ما سبق به، ولو سها المسبوق فیما یقضیه سجد له أیضاً ولا یجزیه عنه سجوده للسهو مع إمامه، لأنه بعد مفارقة إمامه أصبح کالمنفرد حکماً۔ (۲۸۱/۱، کتاب الصلوٰة، سجود السهو)

ما فی ” البحر الرائق “ : المسبوق یتابع إمامه فی سجود السهو، ثم إذا قام إلی القضاء وسها فإنه یسجد ثانیاً فقد تکرر سجود السهو، وأجاب عنه فی البدائع بأن التکرار فی صلوٰة واحدة غیر مشروع، وهما صلاتان حکماً وإن کانت التحریمة واحدة، لأن المسبوق فیما یقضی کالمنفرد۔ (۱۷۵/۲، کتاب الصلوٰة ، باب سجود السهو)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : والمسبوق یسجد مع إمامه مطلقاً سواء کان السهو قبل الإقتداء أو بعده، ثم یقضی ما فاته ولو سها فیه سجد ثانیاً ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی تحت قوله: (ولو سها فیه) أی فیما یقضیه بعد فراغ الإمام یسجد ثانیاً لأنه منفرد فیه، والمنفرد یسجد لسهوه۔ (۵۴۷/۲، کتاب الصلوٰة، باب سجود السهو)

(فتاوی دارالعلوم :۳۹۷/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔