مسبوق کا وتر میں دعاء قنوت پڑھنا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اگر کوئی شخص وتر کی تیسری رکعت میں امام کے ساتھ شریک ہوا، اورا مام کے ساتھ دعاء قنوت بھی پڑھ لی، یا اس نے امام کو تیسری رکعت کے رکوع میں پالیا، اور دعاء قنوت نہیں پڑھی تو ایسے مسبوق شخص کو دوبارہ دعاء قنوت پڑھنا ضروری ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ ایسے مسبوق شخص کیلئے جس نے امام کو تیسری رکعت میں پایا اور دعاء قنوت پڑھ لی، یا تیسری رکعت کے رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہوا، اور دعاء قنوت نہیں پڑھی، دونوں صورتو ں میں دعاء قنوت کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے کہ پہلی صورت میں حقیقةً اور دوسری صورت میں حکماً اس نے دعاء قنوت پڑھ لی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : أما المسبوق فیقنت مع إمامه فقط ویصیر مدرکاً بإدراک الرکوع الثالثة ۔ الدر المختار۔ قال العلامة ابن عابدین تحت قوله: (فیقنت مع إمامه) لأنه أخر صلوٰته وما یقضیه أولها حکماً فی حق القراءة وما أشبهها وهو القنوت، وإذا وقع فی موضعه بیقین لا یکرر، لأن تکراره غیر مشروع۔

(ص:۴۲۱، باب الوتر، البحر الرائق: ۷۲/۲، باب الوتروالنوافل)

(فتاوی حقانیه: ۳۴۱/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔