مسجد میں جگہ روکنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

مسجد میں کسی شخص کا اپنا رومال ، ٹوپی یا مصلی رکھ کر جگہ روک لینا مکروہ ہے ، اور وہ شخص اس صورت میں اس جگہ کا مستحق نہ ہوگا، بلکہ مسجد میں پہلے پہنچ کر جو شخص جس جگہ بیٹھ جائے وہی اس کا حقدار ہے ،ہاں اگر کوئی شخص مسجد میں کسی جگہ کچھ دیر عبادت کرے پھر کسی ضرورت سے تھوڑی دیر کے لیے جانا چاہے اور رومال وغیرہ رکھ کر جگہ روک لے تو یہ جائز ہے اور وہ اس جگہ کا حقدار ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ البحر الرائق ‘‘: ویکره تخصیص مکان في المسجد لأنه یخل بالخشوع ۔(۶۲/۲، ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘ : وتخصیص مکان لنفسه لأنه یخل بالخشوع کذا في القنیة، أي لأنه إذا اعتاده ثم صلی في غیره یبقی باله مشغولاً بالأول ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال في القنیة : له في المسجد موضع معین یواظب علیه وقد شغله غیره قال الأوزاعي : له أن یزعجه ولیس له ذلک عندنا أي لأن المسجد لیس ملکاً لأحد ۔

(۳۷۹/۲ ، کتاب الصلاة ، ما یفسد الصـلاة ومـا یکـره فیها ، مطلب فيالـغـرس في الـمسجد)

(احسن الفتاوی: ۴۵۷/۶،  فتاوی محمودیه :۳۲۲/۱۵)

اوپر تک سکرول کریں۔