مسئلہ:
مسجد کے متولیوں ، کمیٹیوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ وقف کی جائداد کی آمدنی میں سے کسی کو قرض دے ، اگر دیدیا او روہ ضائع ہوا تو ان پر اس کا ضمان یعنی تاوان واجب ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا
ما في’’ البحر الرائق ‘‘ : إن القیم لیس له إقراض مال المسجد ۔ قال في جامع الفصولین : لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن فی عیاله، ولا اقراضه، فلو أقرضه ضمن ۔(۴۰۱/۵)
(فتاوی دار العلوم :۱۸۳/۱۳، نظام الفتاوی :۱۶۶/۴)
ما في ’’ الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة ‘‘: وإقراضه ما فضل من غلة الوقف یرجی أن یجوز إذا کان أجود للوقف ۔ أما الإنفاق علی نفسه لیؤدیه إذا احتاج إلیه الوقف فلا ۔ ویحترز عنه کل الاحتراز فإن فعل ذلک ثم رده إلی الوقف یبرأ ۔ (۲۷۰/۶)
