مسجد کی آمدنی سے معلم کی تنخواہ

مسئلہ:

اگر کوئی زمین مصالحِ مسجد کیلئے وقف کی گئی، اور اس کی آمدنی اتنی ہے کہ مصالحِ مسجد میں خرچ ہونے کے بعد بچ جاتی ہے، اور اس مسجد کے متعلق مدرسہ بھی ہے، جس میں باتنخواہ معلم ہے، تو یہ زائد آمدنی اس کی تنخواہ میں دینا بھی درست ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختارمع الشامیة “ : ویبدأ من غلته بعمارته ثم ما هو أقرب لعمارته کإمام مسجد ومدرس مدرسة یعطون بقدر کفایتهم ۔ ” درمختار “ ۔

وفی الشامی : قوله: (ما هو أقرب لعمارته) قال فی الحاوی القدسی: والذی یبدأ به من ارتفاع الوقف، أی من غلته عمارته شرط الواقف أو لا، ثم ما هو أقرب إلی العمارة، وأعم للمصلحة، کالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة، یصرف إلیهم قدرکفایتهم ۔(۵۵۹/۶۔۵۶۰، کتاب الوقف، مطلب یبدأ بعد العمارة بما هو أقرب إلیها)

ما فی ” الشامیة “ : مراعاة غرض الواقفین واجبة۔(۶۶۵/۶، کتاب الوقف، مطلب مراعاة غرض الواقفین واجبة)

(فتاوی دارالعلوم :۹۸/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔