مسئلہ:
پہلے شہروں کی آبادیاں کم تھیں، راستوں پر گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کا اژدحام بھی نہیں رہتا تھا، اب دیہی علاقوں کے باشندے بھی ترقیات سے فائدہ اُٹھانے کے لیے شہروں کا رُخ کررہے ہیں، اور خود شہروں کی اپنی آبادیوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے ٹریفک بڑھ گئی، اور لوگوں کو آمد ورفت میں دقّتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے لیے حکومت بڑے شہروں میں فلائی اووَر(Fiy Over) یعنی پُل تعمیر کروارہی ہے، جو اچھا عمل ہے، لیکن کہیں ایسا بھی ہورہا ہے کہ پرانی مسجدیں جو لبِ سڑک ہیں، اُن کے اوپر سے فلائی اووَر بنایا جارہا ہے، جو شرعاً جائز نہیں، کیوں کہ مسجد تحت الثَّریٰ سے عَنانِ سماء تک مسجد ہوتی ہے، اس لیے اس کے اوپر سے پُل بنانا جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکره تحریمًا الوطء فوقه، والبول والتغوط، لأنه مسجد إلی عنان السماء ۔ در ۔ وفي الشامیة: قوله: (إلی عنان السماء) وکذا إلی تحت الثری کما في البیری عن الإسبیجابي۔ (۲۷۰/۲۔۲۷۱، کتاب الطهارة، مطلب في أحکام المسجد)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۲۴۶۶۸)
