مسجد کے درودیوار وغیرہ پر نقش ونگار کرنا

مسئلہ:

مسجد کی بیرونی دیواروں پر نقش ونگار جائز ہے، اندر کے حصے میں محراب اور قبلہ کی دیوار پر نقش ونگار مکروہ ہے، اور دائیں بائیں کی دیواروں کے متعلق بھی ایک قول کراہت کا ہے، بہر کیف! اندرکے حصے میں عقبی حصے پر اور چھت پر نقش ونگار درست ہے، سامنے کی دیوار اور دائیں بائیں کی دیواروں پر بھی اگر اس قدر اوپر کرکے نقش ونگار کیا جائے کہ نمازی کی نظر وہاں نہ پڑے تو جائز ہے، مگر اس میں ان شرائط کی رعایت ضروری ہے:

۱۔۔۔۔۔اس میں بہت زیادہ تکلف نہ کیا جائے۔

۲۔۔۔۔۔وقف کا مال نہ لگایا جائے، اگر لگادیا تو متولی ضامن ہوگا ۔

ان شرائط سے بھی یہ کام صرف جائز ہے، مسنون یا مستحب نہیں، اس کے بجائے یہ پیسہ مساکین پر صرف کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامی “ : ولا بأس بنقشه خلا محرابه فإنه یکره، لأنه یلهي المصلی، ویکره التکلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصاً فی جدار القبلة، قاله الحلبی، وفی حظر المجتبی: قیل یکره فی المحراب دون السقف والموٴخر۔ انتهی۔ وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة بجص وماء ذهب لو بماله الحلال لا من مال الوقف، فإنه حرام، وضمن متولیه لو فعل النقش أو البیاض۔

(۴۳۰/۲۔۴۳۱، کتاب الصلاة، ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، الفتاوی الهندیة: ۳۱۹/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة)

(أحسن الفتاوی:۴۵۹/۶۔۴۶۰، فتاوی دارالعلوم:۱۰۶/۱۴، فتاوی محمودیه:۲۵۶/۱۰۔ ۲۵۸)

اوپر تک سکرول کریں۔