مسجد کے نل سے اہلِ محلہ کا پانی لینا

مسئلہ:

مسجد کے اندر لگے ہوئے نل سے اہل محلہ کو پانی لینا اسی صورت میں درست ہے، جب کہ ان لوگوں کی طرف سے اجازت ہو، جن کے چندہ سے وہ نل لگائے گئے ہیں، نیز ان پر لازم ہے کہ احتیاط سے استعمال کریں ، اگر خراب ہوجائے تو اس کی اصلاح بھی کرادیا کریں ، یہ بات نہ ہو کہ پانی تو اہل محلہ بھریں اور مرمت مسجد کے ذمہ رہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو وقف علی دهن السراج للمسجد لا یجوز وضعه جمیع اللیل، بل بقدر حاجة المصلین، ویجوز إلی ثلث اللیل أو نصفه إذا احتیج إلیه للصلوٰة فیه کذا فی السراج الوهاج، ولا یجوز أن یترک فیه کل اللیل إلا فی موضع جرت العادة فیه بذلک، کمسجد بیت المقدس ومسجد النبي والمسجد الحرام، أو شرط الواقف ترکه فیه کل اللیل۔(۴۵۹/۲، کتاب الوقف، الباب الحادی عشر فی المسجد)

ما فی ” البحر الرائق “ : وفی الإسعاف: ولیس لمتولی المسجد أن یحمل سراج المسجد إلی بیته، ولا بأس بأن یترک سراج المسجد فیه من المغرب إلی وقت العشاء، ولا یجوز أن یترک فیه کل اللیل إلا فی موضع جرت العادة فیه بذلک، کمسجد بیت المقدس ومسجد النبی والمسجد الحرام، أو شرط الواقف ترکه فیه کل اللیل کما جرت العادة به فی زماننا۔(۴۲۰/۵ ، کتاب الوقف)

 (فتاویٰ محمودیه: ۲۰۱/۲۲)

اوپر تک سکرول کریں۔