مسجد کے پھول اور پھل توڑنے کا حکم

مسئلہ: 

پھل یا پھول کے جو درخت مسجد کے احاطے میں اسی لیے لگائے گئے کہ سب لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں تو نمازی اور غیر نمازی سب کے لیے اس سے انتفاع درست ہے، اور اگر مسجد کے لیے لگائے گئے یا کچھ حال معلوم نہیں تو ان کو فروخت کرکے مسجد کے کاموں میں صرف کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في’’الدر المختار مع الشامیة ‘‘:غرس في المسجد أشجاراً  تثمر إن غرس للسبیل فلکل مسلم الأکل والافتباع لمصالح المسجد۔(۵۰۷/۶،مطلب استأجر دارا فیھا أشجار)

ما في ’’ البحرالرائق ‘‘: وما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبیل وھو وقف علی العامة کان لکل من دخل المسجد من المسلمین أن یأکل منھا ، وإن غرس للمسجد لا یجوز صرفھا إلا إلی مصالح المسجد الأھم فالأھم کسائر الوقف۔ (۳۴۱/۵ ،۳۴۲

(فتاوی دارالعلوم:۱۴۳/۱۳، فتاوی حقانیه:۱۲۱/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔